مہاراشٹر : خشک سالی کے سبب لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور

  بدھ‬‮ 12 جون‬‮ 2019  |  11:25

مہاراشٹر(این این آئی)انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹرکے ضلع بیڈمیں شدید خشک سالی کے باعث لوگ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ پانی کے مارے پناہ گزین دور دراز کے شہروں اور قصبوں میں جا کر رہنے لگے ہیں، وہ گنے کے کھیت اور شوگر ملوں یا تعمیراتی پروجیکٹس میں کام کرتے یا پھر ٹیکسی چلاتے ہیں۔ زمین بھوری پڑ چکی ہے اور اس میں شگاف نظر آتے ہیں۔ کپاس اور باجرے کے کھیت سوکھے پڑے ہیں۔گاؤں کے 35 کنوؤں میں سے صرف دو کنوؤں میں پانی بچا ہے۔ وہاں تقریبا ایک درجن بور ویل ہیں لیکن زمین میں پانی


کی سطح کم ہونے سے پانی کے لیے انھیں مزید گہرے 650 فٹ تک کھودنا پڑ رہا ہے۔ذرا سی ہوا بھی بجلی کے منقطع ہونے کا سبب بن جاتی ہے۔ اس لیے بور ویل بھی اکثر کام نہیں کرتے ہیں۔پانی کے ٹینکرز ہی اس خشک سالی کے شکار علاقوں کی شہ رگ ہیں لیکن وہ بھی تنگ راستوں کی خستہ حالت کی وجہ سے اس علاقے میں پانی کی فراہمی کے لیے تیار نہیں۔مویشیوں کو کھلانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اس لیے 300 بھینسوں کو چارہ کیمپ میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کے مالک انھیں اپنے ساتھ باندھ کر رکھتے ہیں۔ضلع بیڈ کے نقشے پر ہتکرواڈی ایک دھبہ ہے۔ اس علاقے میں دس لاکھ سے زیادہ افراد قحط سالی کا شکار ہیں۔ وہاں جنگلوں میں تیزی سے کمی ہو رہی اور اب صرف دو فیصد جنگل ہی بچے ہیں جبکہ صرف 16 فیصد کھیتوں میں آبپاشی ہوئی ہے۔ جب مون سون کی اچھی بارشیں ہوتی ہیں تو یہاں آباد ساڑھے چھ لاکھ کسان، کپاس، سویا بین، گنے، بروا اور باجرے کی فصل اگاتے ہیں۔گذشتہ چھ سالوں سے بیڈ میں مسلسل بارش میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ غیر مستقل اور بے موسم بارش کی وجہ سے فصلوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس علاقے کا اہم دریا گوداوری سوکھ رہا ہے۔ضلع بیڈ کے چھوٹے بڑے تمام 140 ڈیمز سوکھ چکے ہیں۔ وہاں کے دو بڑے ڈیمز میں حکام کے مطابق نہ ہونے کے برابر پانی ہے جو کہ کیچڑ آلود ہے۔ یہچارے کی کمی کے سبب بیڈ کے آٹھ لاکھ مویشیوں میں سے نصف کو تقریبا 600 مویشی کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ بیڈ شہر کے ڈھائی لاکھ باشندوں کو ایک ہفتے میں اور کبھی کبھی دو ہفتوں میں ایک ہی بار پانی مل رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک کی 40 فیصد زمین کو خشک سالی کا سامنا ہے جبکہ کم سے کم دس ریاستوں کے پانچ کروڑ افراد اس سے بری طرح متاثر ہیں۔

موضوعات:

loading...