ہفتہ‬‮ ، 05 ستمبر‬‮ 2026 

ایرانی قیادت جب چاہے ملنے کے لیے تیار ہوں، امریکی صدر

datetime 31  جولائی  2018 |

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایرانی قیادت سے بغیر کسی شرط کے جہاں چاہے اور جب چاہے ملنے کے لیے تیار ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق طاقت یا کمزوری کی بات نہیں مذاکرات کو مناسب سمجھتا ہوں، سابق امریکی حکومت کا ایران سے جوہری معاہدہ کاغذ کا ضیاع تھا میں ایران کے ساتھ ایک بامعنی معاہدہ چاہتا ہوں۔وائٹ ہاؤس میں اطالوی وزیر اعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایرانی قیادت سے ملنے کے لیے تیار ہیں اور انہیں یقین ہے۔

ایرانی قیادت بھی ان سے ملنا چاہے گی چنانچہ ایرانی قیادت جہاں ملاقات چاہے میں تیار ہوں اس کے لیے کوئی پیشگی شرط نہیں ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا میں بات چیت پر یقین رکھتا ہوں اور کسی سے بھی مل سکتا ہوں، طاقت یا کمزوری کی بات نہیں مذاکرات کو مناسب سمجھتا ہوں، سابق امریکی حکومت کا ایران سے جوہری معاہدہ کاغذ کا ضیاع تھا میں ایران کے ساتھ ایک بامعنی معاہدہ چاہتا ہوں۔امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی صدر حسن روحانی کے ساتھ ملاقات امریکا، ایران، ہمارے اور دنیا بھر کے لیے بہتر ثابت ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…