اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

شام پر ظلم کی سیاہ رات چھا گئی۔۔ہر طرف آگ و خون خاوندوں کی لاشیں بے گورو کفن چھوڑ کرنکلنے والی خواتین پرایک اور قیامت ،ایک روٹی کے بدلے کیا شرمناک کام کروایا جانے لگا

datetime 28  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)شام میںبشار الاسد کی فوج کی غوطہ شہر پر بمباری کے بعد جہاں پورا شہر کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے وہیں سینکڑوں افراد کی اس وحشیانہ بمباری میں جاں بحق ہونے کی بھی اطلاعات آرہی ہیں۔ بشار الاسدکی فوج کی جانب سے وحشیانہ بمباری شہر کے رہائشی علاقوں پر کی گئی ہے ۔ شام کی صورتحال جہاں روز بروز دگرگوں ہوتی جا رہی ہے وہیں انسانی المیہ بھی جنم لے چکا ہے ۔

انکشاف ہوا ہے کہ امداد کارکن جنگ سے تباہ حال اور لٹے پٹے شامی شہریوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں اور جنگ سے متاثرہ خواتین کو غذائی اشیا کے عوض جنسی زیادتی کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے ان کی پارٹنر امدادی تنظیمیں شام کے جنوبی علاقوں میں امداد تقسیم کرتی ہیں۔ اس دوران بھوک کے ہاتھوں مجبور خواتین کو غذا کے عوض جنسی زیادتی پر مجبور کرنے کے واقعات تسلسل کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کچھ امدادی کارکنوں نے انکشاف کیا کہ امدادی مراکز میں جنسی استحصال اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ متعدد خواتین امداد کے لیے ان مراکز میں آنے پر تیار ہی نہیں کیوں کہ مشہور ہے کہ یہاں وہ خواتین آتی ہیں جو امداد کے عوض اپنا جسم دینے کے لیے تیار ہیں۔ وائسز فرام سیریا 2018ء نامی رپورٹ کے مطابق طلاق یافتہ اور بیوہ خواتین آسان ہدف سمجھی جاتی ہیں اور انہیں مجبور کیا جاتا ہے۔یہ واقعات تین سال قبل تواتر کے ساتھ اس وقت سامنے آئے جب ایک امدادی تنظیم کی خاتون مشیر ڈینیل سپنسر کو خواتین نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات سے آگاہ کرنا شروع کردیا اور بتایا کہ انہیں خوراک اور بنیادی اشیائے ضروریہ کے عوض جنسی خواہش پوری کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور اس وقت تک امداد نہیں دی جاتی

جب تک خواتین ان کی خواہش پوری کرنے پر رضا مند نہیں ہوجاتیں۔شام کی بیوہ خواتین کے ساتھ جنسی استحصال پر شواہد ہونے کے باوجود اقوام متحدہ کی جانب سے مجرمانہ خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…