اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

امریکہ میں ایک کروڑ سے زائد تارکین، واپس بھیجنے کےلئے 20 سال، 600 ارب ڈالر درکار

datetime 6  فروری‬‮  2017 |

واشنگٹن (اے پی پی)سات مسلم اکثریتی ملکوں پر عارضی سفری پابندیوں سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتظامی حکم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ امیگریشن کے امریکی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کا ارادہ رکھتے ہیں۔ صدر اوباما کے دور میں 2009 اور 2015 کے درمیان 25 لاکھ افراد کی ریکارڈ تعداد کو واپس کیا گیا۔

صدر ٹرمپ مزید 10 ہزار امیگریشن آفیسر اور 5 ہزار سرحدی نگرانی کے اہل کار بھرتی کرنا چاہتے ہیں۔ جس سے امیگریشن عہدے داروں کی تعداد بڑھ کر 20 ہزار اور سرحدی نگرانی کی فورس 21 ہزار ہوجائے گی۔ اس اضافی تعداد سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف اقدامات میں تیزی آئے گی۔ امیگریشن افسر شہروں اور قصبوں میں چھپے ہوئے غیر قانونی تارکین وطن کو تلاش کریں گے، وہ ان جگہوں پر چھاپے ماریں گے جو انہیں روزگار فراہم کرتے ہیں۔ امیگریشن محکمے کی پریس سیکرٹری جینی فر ایلزا کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کے لیے امریکہ بھر میں 203 حراستی مراکز موجود ہیں جن میں 34 ہزار کے لگ بھگ افراد کے رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ ہرسال تقریباً چار لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لیا جاتا ہے جو اوسطاً 30 دنوں تک حراستی مراکز میں قیام کرتے ہیں۔امریکہ میں امیگریشن کی عدالتوں پر مقدمات کا بھاری بوجھ ہے ایک اندازے کے مطابق اس وقت پانچ لاکھ مقدمے زیر التوا ہیں۔ کسی شخص کے خلاف مقدمے کی سماعت کی باری آنے میں اوسطاً 678 دن لگ جاتے ہیں۔ امیگریشن حکام کے مطابق 2016 میں دو لاکھ 40 ہزار سے زیادہ افراد کو واپس بھیجا گیا جن میں 65 ہزار کے لگ بھگ افراد کو ملک کے اندر سے پکڑا گیا تھا باقی افراد کو سرحد عبور کرتے وقت حراست میں لیا گیا تھا۔ واپس بھیجے جانے والے زیادہ تر افراد کا تعلق میکسیکو، گوئٹے مالا، ہینڈورس اور ایل سلواڈور سے تھا۔

ایلزا کے مطابق ایک فرد کی واپسی پر 12 ہزار ڈالر سے زیادہ خرچ آتا ہے۔ اوباما کے دور میں واپس بھیجے جانے والوں پر امریکہ کے خزانے کو 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا بوجھ برداشت کرنا پڑا تھا۔اگر ججوں کی تعداد ، مقدمے کے فیصلے کی مدت اور اخراجات سے متعلق اعداد و شمار کو سامنے رکھا جائے تو امریکہ سے تمام غیر قانونی تارکین وطن کو ، جن کی تعداد کا تخمینہ ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ لگایا جاتا ہے، 20 سال کا عرصہ اور 400 سے 600 ارب ڈالر تک کے اخراجات اٹھیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…