ڈائن‘ ‘ ہونے کے شک میں خاتون کا سر قلم کر دیا

  بدھ‬‮ 22 جولائی‬‮ 2015  |  10:47

اسلام آباد(نیوزڈیسک )تہمت پرست بھارتوں نے ”ڈائن‘ ‘ ہونے کے شک میں خاتون کا سر قلم کر دیا گیا۔ یہ واقعہ بھارت کی ریاست آسام میں پیش آیا جہاں مسلح دیہاتیوں نے جادو ٹونا کرنے کے شبے میں 63 سالہ خاتون ”مونی اورنگ“ کا سر قلم کر دیا اور اس کے بعد اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔
حکام کے مطابق کاربی قبیلے کے افراد نے الزام عائد کیا کہ اس 63 سالہ خاتون کی وجہ سے علاقے میں لوگ بیمار ہو رہے ہیں۔ وشواناتھ چارالی ضلع کے ایک گاوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق چند افراد اس خاتون کو گھر سے تشدد کرتے ہوئے دریا کے کنارے لے گئے اور وہاں تیز دھار آلے سے اس کا قتل کر دیا تھا۔اس واقعے کی تحقیقات کرنے والے پولیس اہلکار عبدالصمد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ’گاوں میں کچھ لوگ بیمار ہو رہے تھے۔
اس کے بعد کچھ دیہاتیوں نے پوری اوراگ نام کی عورت کو ڈائن قرار دے دیا اور پیر کو اس کا قتل کر دیا۔پولیس نے اس واقعے میں ملوث ہونے کے شک میں گاوں کے رہائشی رام بعے اور دو خواتین سمیت سات افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔ گرفتار کیے جانے والے افراد کا تعلق بھی کاربی قبیلے سے ہے اور اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے نیم فوجی فورس کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
سینئر پولیس اہلکار مانابیندرا دیو رائے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ”خنجروں اور دیگر تیز دھار ہتھیاروں سے لیس حملہ آور گاو¿ں میں آئے اور انہوں نے مونی اورنگ کو اس کے گھر سے دور لے جا کر بے دردی سے اسے قتل کر دیا۔“ پولیس اہلکار کا مزید کہنا تھا، ”اس کا سر کاٹ دیا گیا اور اس کے جسم کے ٹکڑے کر دیے گئے۔“
حکام کا کہنا ہے کہ رام بعے اور اس کی بیوی نے لوگوں کو قتل پر اکسایا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران جادو ٹونا کرنے کے شک میں 82 افراد کو قتل کیا گیا اور ان میں اکثریت خواتین کی تھی۔ریاست آسام میں حکومت نے ایسے واقعات کو روکنے ایک نئے قانون کا مسودہ تیار کیا تاہم ابھی اسے اسمبلی سے منظور نہیں کرایا جا سکا۔



زیرو پوائنٹ

سانو۔۔ کی

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎