جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

’’دیسی مرغی‘ ادرک‘ شہد کرونا کے علاج میں مفید‘‘ طریقہ استعمال بھی سامنے آگیا،پاکستانی نسخے کی امریکہ میں بھی دھوم

datetime 23  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر فائزہ عبدالرب نے دیسی مرغی کے گوشت ادرک اور شہد کے استعمال کوکرونا علاج میں مفید قرار دیدیا،روزنامہ نوائے وقت کے مطابق ان کے ’’تحقیقاتی مقالے ‘‘ کو امریکہ کے ادارہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے اپنے ’’جرنل آف پروبیوٹک اینڈ ہیلتھ ‘‘میں شائع کیا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ دیسی مرغ،گوشت اور ادرک تینوں اجزاء کا استعمال وائرس کے حملے کی شدت، وائرس سے پیدا ہونے والے بگاڑ اور جان بچانے میں مفید ثابت ہوتا ہے اس کے استعمال کا طریقہ ذرا مختلف ہے ایک کلو دیسی مرغ کے گوشت کو کھال اور پنجوں سمیت لیکن پروں کو اتار کر آٹھ گلاس پانی شامل کرکے کم از کم چار انچ تک ادرک کے ٹکڑے کو چھلکے سمیت باریک کرکے پتیلے میں ڈالیں ،کالی مرچ کے سو دوانے ،بیس لونگ،ایک چوتھائی چائے کا چمچہ مقدار جتنا زیرہ اوردال چنے کے دو یا تین دانے بھی پتیلے میں ڈالئں۔ان اجزاء کو ہلکی آنچ پر اس طرح پکائیں کہ زیادہ بھاپ باہر نہ نکل سکیں اتنا پکائیں کی یخنی کی مقدار نصف رہ جائے ،ٹھنڈے شہد پر ایک لیموں نچوڑ کر حسب ذائقہ نمک ڈال کر کرونا کے متاثرہ شخص کو اس وقت تک دیئے جائیں جب تک وہ صحت یاب نہ ہوجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرکب کو ایک دن تک فریج میں رکھا جاسکتا ہے ادرک اور شہد کے مرکب کی تیاری کیلئے قدرتی شہد جسے گرم نہ کیا گیا ہو ،کواستعمال کیا جاسکتا ہے امپورٹڈ شہد گرم کرکے پیک کئے جاتے ہیں اور مقامی شہد بھی مکھیوں کو میٹھا شوربہ ہلا کر پیدا کیا جاتا ہے یہ دونوں مرکب بنانے کیلئے استعمال نہیں کئے جاسکتے۔ادرک اور شہد کا مرکب بنانے کیلئے آٹھ یا دس کھانے کے چمچ شہد لیکر آٹھ انچ ادرک کو اس حد تک پیسا جائے کہ وہ ایک پیسٹ کی شکل اختیار کر جائے اس پیسٹ کو چوڑی دار بوتل میں ڈال کر رکھا جائے کہ اس میں ہوا داخل نہ ہو اس مرکب کو فریج میں محفوظ کیا جاسکتا ہے دن میں تین یا چار مرتبہ مریض کو مکمل صحت یابی تک استعما کیا جائے یہ مرکب تین چار دن تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…