ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

بڑھتی عمر کے باوجود جسم کو جوان رکھنا چاہتے ہیں؟

datetime 10  مارچ‬‮  2018 |

برطانیہ (مانیٹرنگ ڈیسک) عمر بڑھنے کے ساتھ بڑھاپا طاری ہونا قدرتی عمل ہے مگر ایک عادت کو اپنا کر جسمانی تنزلی کو طویل عرصے تک روک سکتے ہیں۔ یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ برمنگھم یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ورزش کو معمول بنالینا بڑھاپے کی اجنب سفر کو سست کردیتا ہے اور جسم کو درمیانی عمر میں متحرک رکھتا ہے۔

بڑھاپے کی جانب سفر سست کرنا چاہتے ہیں؟ اس تحقیق کے دوران ایسے معمر افراد کی صحت کا تجزیہ کیا گیا جنھوں نے اپنی بلوغت کا زیادہ عرصہ ورزش کرتے ہوئے گزارا تھا، تاکہ جانا جاسکے کہ اس عادت کے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ نتائج سے ایسے ٹھوس شواہد سامنے آئے کہ ورزش کو معمول بنالینا لمبی زندگی کے ساتھ صحت مند رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ تحقیق کے دوران 55 سے 84 سال کی عمر کے 125 مرد اور خواتین کی خدمات لی گئیں ، جس کے لیبارٹری میں مختلف ٹیسٹ کرکے ان کے نتائج کا موازنہ جسمانی طور پر متحرک نہ رہنے والے معمر افراد کے ساتھ کیا گیا۔ محققین نے دریافت کیا کہ ورزش کو معمول بنانے والے افراد میں مسلز کا حجم اور مضبوطی کم ہونے کی شرح دوسرے گروپ کے مقابلے میں کمی تھی ۔ اسی طرح ورزش کرنے والوں میں جسمانی چربی یا کولیسٹرول لیول کی سطح عمر بڑھنے کے ساتھ بڑھی نہیں جبکہ مردوں میں ٹسٹوسیٹرون نامی ہارمون کی سطح بھی بلند رہی۔ 16 غذائیں جو بڑھاپے کی جانب سفر سست کریں تحقیق میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ مسلز سے ہٹ کر بھی ورزش کو معمول بنانے کے فوائد ہوتے ہیں جیسے ان کا جسمانی دفاعی نظام عمر بڑھنے کے باوجود کمزور نہیں ہوتا، جس سے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ جسمانی دفاعی نظام کے لیے خلیات بنانے والا تھائی مس نامی غدود 20 سال کی عمر کے بعد سکڑنے لگتا ہے اور خلیات کم بنانے لگتا ہے، مگر ورزش کرنے والوں میں یہ غدود نوجوان افراد جتنی تعداد میں ہی ان خلیات کو بناتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل ایجنگ سیل میں شائع ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…