جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

شو چھوڑ جانے کے بعد فاطمہ سہیل سے بات کی تو وہ رو پڑیں، رابعہ انعم

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

کراچی (این این آئی)ٹی وی میزبان رابعہ انعم نے کہا ہے کہ جب انہوں نے کچھ دن قبل ندا یاسر کا شو چھوڑا تھا تو وہاں سے نکلنے کے بعد سب سے پہلے انہوں نے فاطمہ سہیل کو فون کیا تھا، جس پر وہ ان کے ساتھ بات کرتے وقت رو پڑی تھیں۔رابعہ انعم 8 نومبر کو ندا یاسر کے مارننگ شو سے اٹھ کر چلی گئی تھیں،

ان کے ساتھ پروگرام میں اداکارہ فضا علی اور محسن عباس حیدر بھی مہمان تھے۔رابعہ انعم نے پروگرام کو چھوڑ کر جانے سے قبل ندا یاسر، اے آر وائے چینل اور پروگرام کے پروڈیوسرز سے معافی بھی مانگی اور کہا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ پروگرام کے دوسرے مہمان کون ہیں۔پروگرام چھوڑنے سے قبل رابعہ انعم نے ندا یاسر کو بتایا کہ انہوں نے گھریلو تشدد کے خلاف کھڑے ہونے کا عزم کیا ہے اور وہ اس حوالے سے آواز بھی بلند کرتی آ رہی ہیں، جس وجہ سے آج ان کا پروگرام میں بیٹھنا انہیں مناسب نہیں لگ رہا۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ پروگرام میں شریک رہیں تو ان کی تمام کاوشیں ختم ہوجائیں گی، اس لیے وہ مزید اس پروگرام کا حصہ نہیں رہنا چاہتیں، کیوں کہ وہ گھریلو تشدد کے خلاف اٹھائی گئی اپنی آواز کو کم نہیں دیکھنا چاہتیں۔رابعہ انعم کے مذکورہ عمل پر جہاں ان کی تعریفیں کی گئی تھیں، وہیں بعض شخصیات اور افراد نے ان پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں کوئی حق نہیں کہ وہ براہ راست ٹی وی پر کسی کی تضحیک کریں، اگر انہیں مسئلہ تھا تو وہ پروگرام میں ہی شرکت نہ کرتیں۔رابعہ انعم نے واضح طور پر محسن عباس حیدر کا نام نہیں لیا تھا لیکن شو سے نکلنے کے بعد انہوں نے ان کی سابق اہلیہ فاطمہ سہیل سے فون پر بات کرنے کی تصدیق کی اور بتایا کہ فون پر بات کرتے وقت دونوں رو پڑی تھیں۔سابق نیوز اینکر نے لوگوں کی تنقید اور تعریف کے بعد اپنی ٹوئٹس میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کے قدم کی تعریف کی۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…