شو چھوڑ جانے کے بعد فاطمہ سہیل سے بات کی تو وہ رو پڑیں، رابعہ انعم

  بدھ‬‮ 16 ‬‮نومبر‬‮ 2022  |  17:13

کراچی (این این آئی)ٹی وی میزبان رابعہ انعم نے کہا ہے کہ جب انہوں نے کچھ دن قبل ندا یاسر کا شو چھوڑا تھا تو وہاں سے نکلنے کے بعد سب سے پہلے انہوں نے فاطمہ سہیل کو فون کیا تھا، جس پر وہ ان کے ساتھ بات کرتے وقت رو پڑی تھیں۔رابعہ انعم 8 نومبر کو ندا یاسر کے مارننگ شو سے اٹھ کر چلی گئی تھیں،

ان کے ساتھ پروگرام میں اداکارہ فضا علی اور محسن عباس حیدر بھی مہمان تھے۔رابعہ انعم نے پروگرام کو چھوڑ کر جانے سے قبل ندا یاسر، اے آر وائے چینل اور پروگرام کے پروڈیوسرز سے معافی بھی مانگی اور کہا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ پروگرام کے دوسرے مہمان کون ہیں۔پروگرام چھوڑنے سے قبل رابعہ انعم نے ندا یاسر کو بتایا کہ انہوں نے گھریلو تشدد کے خلاف کھڑے ہونے کا عزم کیا ہے اور وہ اس حوالے سے آواز بھی بلند کرتی آ رہی ہیں، جس وجہ سے آج ان کا پروگرام میں بیٹھنا انہیں مناسب نہیں لگ رہا۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ پروگرام میں شریک رہیں تو ان کی تمام کاوشیں ختم ہوجائیں گی، اس لیے وہ مزید اس پروگرام کا حصہ نہیں رہنا چاہتیں، کیوں کہ وہ گھریلو تشدد کے خلاف اٹھائی گئی اپنی آواز کو کم نہیں دیکھنا چاہتیں۔رابعہ انعم کے مذکورہ عمل پر جہاں ان کی تعریفیں کی گئی تھیں، وہیں بعض شخصیات اور افراد نے ان پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں کوئی حق نہیں کہ وہ براہ راست ٹی وی پر کسی کی تضحیک کریں، اگر انہیں مسئلہ تھا تو وہ پروگرام میں ہی شرکت نہ کرتیں۔رابعہ انعم نے واضح طور پر محسن عباس حیدر کا نام نہیں لیا تھا لیکن شو سے نکلنے کے بعد انہوں نے ان کی سابق اہلیہ فاطمہ سہیل سے فون پر بات کرنے کی تصدیق کی اور بتایا کہ فون پر بات کرتے وقت دونوں رو پڑی تھیں۔سابق نیوز اینکر نے لوگوں کی تنقید اور تعریف کے بعد اپنی ٹوئٹس میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کے قدم کی تعریف کی۔



زیرو پوائنٹ

اہل لوگوں کی قدر کریں

میرے گھر سے50 میٹر کے فاصلے پر ایک واکنگ ٹریک ہے‘ میں وہاں روزانہ واک کرتا ہوں‘ میرے ساتھ سیکٹر کے بے شمار لوگ‘ جوان‘ خواتین اور بچے بھی واک کر رہے ہوتے ہیں‘ یہ جگہ دو سال پہلے تک اجاڑ بیابان ہوتی تھی‘ انسان تو کیا جانور تک یہاں نہیں آتے تھے لیکن پھر دو سال پہلے یہاں تبدیلی ....مزید پڑھئے‎

میرے گھر سے50 میٹر کے فاصلے پر ایک واکنگ ٹریک ہے‘ میں وہاں روزانہ واک کرتا ہوں‘ میرے ساتھ سیکٹر کے بے شمار لوگ‘ جوان‘ خواتین اور بچے بھی واک کر رہے ہوتے ہیں‘ یہ جگہ دو سال پہلے تک اجاڑ بیابان ہوتی تھی‘ انسان تو کیا جانور تک یہاں نہیں آتے تھے لیکن پھر دو سال پہلے یہاں تبدیلی ....مزید پڑھئے‎