اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کے باعث قرض دہندگان کا پاکستان کو رعایت دینے سے انکار، اگلے ہفتے ایک ارب ڈالرز سے زائد کا قرضہ واپس کرنا ہوگا، زرمبادلہ ذخائر انتہائی خطرناک حد تک گرنے کا خدشہ

datetime 29  دسمبر‬‮  2022 |

کراچی(این این آئی) پاکستان کو اگلے ماہ کے اوائل میں دو غیرملکی کمرشل بینکوں کو 1 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے قرضوں کی ادائیگی کرنی ہے۔وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت کو جنوری کے پہلے ہفتے میں خلیجی بینکوں کو دو قرضے واپس کرنے ہوں گے۔ یہ قرضے ایک سال کی مدت کے لیے اس توقع پر لیے گئے تھے کہ

قرض دہندگان میچورٹی کے وقت ان کی مدت واپسی میں توسیع کریں گے۔تاہم پاکستان کے لیے عالمی اداروں کی جانب سے جنک کریڈٹ ریٹنگز، جو ڈیفالٹ کے خطرے کی نشاندہی کرتی ہیں، غیرملکی قرض دہندگان کو پاکستان کے ساتھ اپنے وعدے ایفا کرنے سے روک رہی ہیں۔ کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کے باعث قرض دہندگان نے پاکستان کو رعایت دینے سے انکار کر دیا ہے، جنوری کے پہلے ہفتے میں دبئی میں قائم دو کمرشل بینکوں کو $600 ملین اور $415 ملین ڈالرز کی دو الگ الگ ادائیگیاں کی جانی ہیں، جو پاکستان کے زرمبادلہ کے پہلے سے ہی انتہائی کم ذخائر کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر انتہائی خطرناک سطح تک گر جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر محض 6 ارب ڈالر کے رہ گئے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے 26 اکتوبر کو طے شدہ مشن کے دورے کی تصدیق نہ کیے جانے کے بعد پاکستان کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، ڈیفالٹ کے خطرات بڑھ گئے ہیں اور سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بار بار کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام کی عدم موجودگی میں ملک ڈیفالٹ کی طرف جائے گا۔موجودہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ روز کہا کہ پاکستان بین الاقوامی ادائیگیوں میں ڈیفالٹ نہیں کرے گا کیونکہ حکومت نے رواں مالی سال 2023 کے لیے 31 سے 32 ارب ڈالرز کی تمام ضروریات کا بندوبست کر لیا ہے۔دوسری جانب زرمبادلہ کا بحران بھی بدستور شدت اختیار کرتا جارہا ہے، انٹربینک اور بلیک مارکیٹ ریٹ کے درمیان فرق 25 سے 30 روپے فی ڈالر تک جا پہنچا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…