جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ایف بی آر کا سندھ حکومت کو زرعی ڈیٹا دینے سے انکار

datetime 9  جنوری‬‮  2022 |

کراچی(این این آئی)وفاق نے انکم ٹیکس گوشواروں میں زرعی آمدنی ظاہر کرنے والے ٹیکس دہندگان بارے صوبوں کو معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کی زرعی آمدنی کی تفصیلات صوبوں کو فراہم کرنے کی بجائے خود نوٹس جاری کرنے کی پیشکش کی ہے جسے صوبوں نے ماننے سے انکار کردیا۔دستیاب دستاویز کے مطابق سندھ حکومت نے

ایک مراسلے کے ذریعے ایف بی آر سے انکم ٹیکس سے چھوٹ حاصل کرنے کیلئے زرعی آمدنی ظاہر کرنے والے ٹیکس دہندگان کی تفصیلات طلب کی تھیں۔سندھ حکومت کے ذرائع نے بتایاکہ مراسلے کا بنیادی مقصد صوبائی سطع پر زرعی آمدنی پر ٹیکس نیٹ اور ٹیکس ریونیو بڑھانا تھا تاکہ وفاق اور صوبوں کے مابین معلومات کے تبادلے سے زرعی شعبہ سے مطلوبہ صلاحیت کے مطابق ٹیکس وصولی یقینی بنائی جاسکے۔دوسری طرف سندھ حکومت کو ایف بی آر کی جانب سے لکھے جانے والے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 216 کے تحت ٹیکس دہندگان کی معلومات صوبوں کو فراہم نہیں کرسکتا، البتہ ایف بی آر کے پاس انکم ٹیکس گوشواروں میں ٹیکس چھوٹ کی حامل زرعی آمدنی ظاہر کرنے والے ان تمام ٹیکس دہندگان کو نوٹس جاری کرنے کے اختیارات حاصل ہیں جنہوں نے ایف بی آر کو جمع کرائے جانے والے انکم ٹیکس گوشواروں میں زرعی آمدنی ظاہر کرکے اس پر انکم ٹیکس چھوٹ حاصل کی ہے مگر صوبائی سطع پر اس آمدنی پر زرعی انکم ٹیکس ادا نہیں کیا ہے۔مراسلے میں ایف بی آر نے موقف اختیار کیا ہے کہ ایف بی آرکے اس ایکشن سے انکم ٹیکس گوشواروں میں زرعی آمدنی ظاہر کرنے والے یہ ٹیکس دہندگان صوبائی سطع پر زرعی آمدنی پر ٹیکس دینے پر مجبور ہوں گی جس کے صوبائی ریونیو پر مثبت اثرات مرتب ہونگے اور وفاقی سطع پر بھی انکم ٹیکس چھوٹ کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…