پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

ڈالر کے مقابلے لیرا کی قدر میں شدید کمی سے ترک عوام پریشان

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2021 |

انقرہ(این این آئی) ترک عوام اپنی کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ کے باعث پریشانی کا شکار ہیں اور جب گزشتہ روز لیرا کی قدرمیں ڈالر کے مقابلے مزید 15 فیصد گراوٹ ہوئی تو مرکزی اپوزیشن پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ ملک کو سیاہ ترین ’تباہی‘ کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کئی ہفتوں کی گراوٹ کے بعد منگل کے روز لیرا کی قدر میں شدید کمی ہوئی جس سے قیمتوں میں

پہلے ہی اضافہ ہوچکا ہے۔جس کے باعث عام ترک شہری اپنی تعطیلات کے منصوبوں سے لے کر ہفتہ وار سودا سلف کی خریداری تک پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔دوسری جانب اپوزیشن کی ریپبلکن پیپلزپارٹی کے رہنما کمال قلیج اوغلو کا کہنا تھا کہ ’ملک کی تاریخ میں ایسی تباہی کبھی نہیں آئی‘ اور کرنسی کی اس گراوٹ کا الزام ترک صدر رجب طیب اردوان پر عائد کیا جو 2003 سے ملک پر حکومت کررہے ہیں۔اپوزیشن رہنما کا کہنا تھا کہ اس وقت، آپ جمہوریہ ترکی کے لیے قومی سلامتی کا ایک بنیادی مسئلہ ہیں۔رجب طیب اردوان نے شرح سود میں کمی کرنے کے لیے مرکزی بینک پر دباؤ ڈالا تا کہ برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھیں۔تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے دوہرے ہندسوں کی افراط زر کو مزید ہوا ملے گی اور لیرا کی قدر میں کمی آئے گی اور ترکوں کی آمدنی مزید نیچے چلی جائے گی۔انقرہ کے ایک مرکزی مال میں خریداروں کا کہنا تھا کہ وہ لیرا کی شرح سے نظریں نہیں ہٹا سکتے، جو منگل کے روز ڈالر کے مقابلے میں 13.45 فیصد تک گر گیا۔ایک سال پہلے ایک ڈالر 8 لیرا کے برابر تھا جو گزشتہ ماہ 9 اور گزشتہ ہفتے 10 تک پہنچ گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…