مٹن اور بیف تو دور کی بات مرغی کا گوشت بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور، قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

  منگل‬‮ 23 فروری‬‮ 2021  |  13:23

لاہور( این این آئی)شہر میں پرچون سطح پر برائلر گوشت کی قیمت مزید 11روپے اضافے سے339روپے، زندہ برائلر مرغی کی قیمت8روپے اضافے سے234روپے فی کلو جبکہ فارمی انڈوں کی قیمت بھی ایک روپے اضافے سے150روپے فی درجن کی سطح پر رہی۔گوشت کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر شہری حکومت کیخلاف پھٹ پڑے ۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ قیمت میں مسلسل اضافے سے چکن غریب کی پہنچ سے باہر ہو گیا ہے، عوام میں قوت خرید ہی نہیں رہی۔ ڈر ہے کہ رمضان المبارک میں گوشت 500 روپے تک نہ پہنچ جائے مارکیٹوں میں خریدار نہ ہونے سے دکاندار بھی


پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ دکانداروں کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں اضافے کے باعث بازاروں میں رش ہی نہیں۔ قیمت میں اضافے سے صبح سے کوئی بھی گاہک نہیں آیا۔ مرغی کے گوشت کی قیمت میں اضافے سے بون لیس چکن گوشت 450 روپے فی کلو، چکن قیمہ 550 روپے کلو، لیگ پیس 360 روپے جبکہ کلیجی پوٹہ 200 روپے فی کلو میں فروخت ہوئی ،دوسری جانب مرغی کا گوشت 339روپے کلو فروخت ہونے کیخلاف پنجاب اسمبلی میں اظہار تشویش کی قرارداد جمع کروادی گئی ۔مسلم لیگ(ن)کی رکن سمیرا کومل کی جانب سے جمع کرائی گئی قرا ر داد کے متن میں کہا گیا کہ پنجاب میں مرغی کا گوشت339روپے کلو فروخت ہورہا ہے۔مرغی کا گوشت بھی عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو چکا ہے۔مٹن اور بیف تو دور کی بات مرغی کا گوشت بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگیا ہے۔حکومت کی نااہلی اور بے حسی کے باعث مرغی کے گوشت کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قرا ر داد میں مطالبہ کیاگیا کہ مرغی کے گوشت کی قیمت میں فوری کمی لائی جائے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

یہ ہوں یا نہ ہوں

سرتاج عزیز صاحب کو اگر لیونگ لیجنڈ کہا جائے تو یہ غلط نہیں ہو گا‘ یہ 92سال کے ”نوجوان“ ہیں‘ پوری زندگی قومی اورعالمی اداروں میں کام کیا‘ اس وقت پوری سیاسی لاٹ میں ان سے زیادہ تجربہ کار بیوروکریٹ‘ ایکسپرٹ اور سمجھ دار شخص نہیں‘ یہ تاریخ کے ناظر بھی ہیں اور خود بھی ایک تاریخ ہیں۔سرتاج ....مزید پڑھئے‎

سرتاج عزیز صاحب کو اگر لیونگ لیجنڈ کہا جائے تو یہ غلط نہیں ہو گا‘ یہ 92سال کے ”نوجوان“ ہیں‘ پوری زندگی قومی اورعالمی اداروں میں کام کیا‘ اس وقت پوری سیاسی لاٹ میں ان سے زیادہ تجربہ کار بیوروکریٹ‘ ایکسپرٹ اور سمجھ دار شخص نہیں‘ یہ تاریخ کے ناظر بھی ہیں اور خود بھی ایک تاریخ ہیں۔سرتاج ....مزید پڑھئے‎