پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ڈالر کی قدر میں ریکارڈاضافہ ، مہنگے پیٹرول نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو پَر لگا دیے

datetime 22  مئی‬‮  2019 |

کراچی( این این آئی)دالوں،چاول،چینی، مصالحہ جات،گندم و دیگر اجناس کے تھوک تاجروں،درآمدکنندگان وبرآمدکنندگان کی نمائندہ کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن (کے ڈبلیو جی اے) کے سرپرست اعلیٰ انیس مجید اور چیئرمین ملک ذوالفقار نے روپے کی مسلسل بے قدری،ڈالر کی قدر میں ریکارڈ اضافے اور پیٹرولیم مصنوعات کی زائد قیمتوںکو درآمدی غذائی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا

اضافے کا باعث قرار دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ماہ مقدس رمضان المبارک میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میںہوشربا اضافے کو روکنے کے لیے فوری طور پر ڈالر کو لگام دینے کے اقدامات کریں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ایک بیان میں ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ انیس مجیداور چیئرمین ملک ذوالفقار نے کہاکہ ڈالر کی قدر میں متواتر اضافے نے درآمدی شعبے پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے ہیں خاص طور پر ایسی غذائی اشیاء جن کی پیداوار ملک میں کم اور طلب زیادہ ہے لہٰذا مقامی طلب کو پورا کرنے کے لیے یہ اشیاء وافر مقدار میں درآمد کی جاتی ہیں ۔ ڈالر کی قدر میں اضافے سے ایک جانب درآمدی اشیاء کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہواتو دوسری جانب مہنگے پیٹرول کی وجہ سے درآمدی اشیاء کی ترسیل کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔کے ڈبلیو جی اے کے عہدیداروں کا کہناہے کہ ڈالر کی قدر میں حالیہ اضافے سے درآمدی غذائی اشیاء خصوصاً دالوں کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافہ ہوجائے گا جس سے یقینی طور پر عوام براہ راست متاثر ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں دالوں کی سالانہ کھپت تقریباً14سے15لاکھ ٹن ہے جبکہ پیداوار5سے6 لاکھ ٹن ہے لہٰذا مقامی طلب کو پورا کرنے کے لیے امریکا،کینیڈا،آسٹریلیا،چین،روس،یوکرین،برما اور افریقا سے تقریباً 7لاکھ ٹن چنا اور دالیں درآمد کی جاتی ہیں۔ انیس مجیداور چیئرمین ملک ذوالفقار نے مزید کہا کہ رمضان المبارک میں چنے اور دالوں کا استعمال زیادہ ہوتاہے جس کی وجہ سے اس کی مانگ بھی بڑھ جاتی ہے اور تقریباً ہر گھر میں ہی اس کا استعمال ہوتا ہے لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جس سے غریب افراد بھی بغیرکسی دشواری کے اس ماہ مقدس میں اپنا دینی فریضہ احسن طریقے سے نبھا سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…