ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

اب سالانہ 22 ارب ڈالر کہاں سے لاؤگے؟ حکمرانوں نے پاکستان کی کشتی بھنورمیں پھنسادی،تہلکہ خیزانکشافات

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) آئندہ چار برس میں پاکستان پر واجب الادا قرضوں کا حجم 111 ارب ڈالر ہو جانے کا خدشہ ہے، معاشی ماہرین نے کہاہے کہ بیرونی قرضوں میں اضافے کے باعث ایک بار پھر پاکستان کو آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑ سکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق آئندہ چار برس میں پاکستان پر واجب الادا قرضوں کا حجم 111 ارب ڈالر ہو جانے کا خدشہ ہے

جوکہ آئی ایم کے اندازوں سے بھی زیادہ ہے۔ماہرین کے مطابق ان قرضوں کی ادائیگی کیلئے پاکستان کو سالانہ 22 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔سابق مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن کے مطابق قرضوں کا یہ حجم آئی ایم ایف کی پیشگوئی سے چوبیس ارب ڈالر زائد ہے۔ سال دوہزار تیرہ میں بھی قرضوں کی ادائیگی اور معشیت کو سہارا دینے کیلئے پاکستان نے کڑی شرائط پر آئی ایم ایف سے چھ اعشاریہ سات ارب ڈالر کا قرضہ لیا تھا۔خیال رہے کہ

اس وقت پاکستان کے بیرونی قرضوں کا حجم تہتر ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق ملک کے بیرونی قرضوں کے حجم میں گزشتہ چند سالوں کے دوران تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے، اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کے بیرونی قرضوں کا حجم جولائی2013 تک61ارب90 کروڑ ڈالر، جولائی2014 میں 65ارب40 کروڑ ڈالر اور جولائی2015 میں 66ارب40 کروڑ ڈالر کی سطح پر تھا۔واضح رہے کہ پاکستان پرغیرملکی قرضوں کا بوجھ پہلے ہی بہت زیادہ ہے، ایک اندازے کے مطابق ملک کا ہر شہری ایک لاکھ روپے سے زیادہ کا مقروض ہے، لہذا یہ بات بے حد تشویشناک ہے کہ اس بوجھ میں اب مزید تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…