بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

آئی پی ایل میں میچ فکسنگ کے تہلکہ خیز انکشافات، کھلاڑی نے اعتراف کرلیا

datetime 23  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارتی تحقیقاتی ادارے تہلکہ کی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کی جانب سے کی گئی خفیہ کیمرہ تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2025 کے دوران بعض ٹیموں کی پلیئنگ الیون سے متعلق اہم معلومات مبینہ طور پر لندن میں موجود بکیز تک منتقل کی جاتی رہیں۔رپورٹ کے مطابق سابق فرسٹ کلاس کرکٹر رچت بھاٹیہ نے مبینہ طور پر چنئی سپر کنگز کی ٹیم سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے بدلے فی میچ 60 لاکھ روپے وصول کرنے کا اعتراف کیا۔ تہلکہ کا کہنا ہے کہ اسنیپ چیٹ کے ذریعے یہ معلومات لندن میں موجود سٹے بازوں تک پہنچائی جاتی تھیں اور پانچ میچز سے تقریباً 3 کروڑ روپے حاصل کیے گئے۔تحقیقاتی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بھاٹیہ نے گزشتہ دسمبر میں رپورٹرز کے سامنے مبینہ میچ فکسنگ سے متعلق سرگرمیوں اور اپنے کردار کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق پلیئنگ الیون سے متعلق معلومات دینے والا کھلاڑی ایک نوجوان وکٹ کیپر بیٹر تھا، جس کی شناخت کرکٹ صحافی پرتیش ہلدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ونش بیدی کے نام سے ظاہر کی۔ونش بیدی کو چنئی سپر کنگز نے آئی پی ایل 2025 کی نیلامی کے دوران 55 لاکھ روپے میں اپنی ٹیم کا حصہ بنایا تھا۔تہلکہ کی تحقیقات میں رچت بھاٹیہ کی جانب سے 2018-19 کی سید مشتاق علی ٹرافی کے دوران بھی مبینہ اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کا دعویٰ سامنے آیا۔ سابق کرکٹر کے مطابق بکیز سے رقم کے عوض انہوں نے جان بوجھ کر دو گیندیں وائیڈ کروائیں، جس کے لیے فی وائیڈ 8 لاکھ روپے طے کیے گئے تھے۔

رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ رانجی ٹرافی کی ایک ٹیم میں جگہ حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر رشوت دی گئی تھی۔تحقیقات کے مطابق مبینہ سرگرمیاں صرف آئی پی ایل تک محدود نہیں رہیں بلکہ دہلی پریمیئر لیگ سے متعلق بھی پلیئنگ الیون کی معلومات فراہم کرنے کے عوض فی میچ 40 لاکھ روپے وصول کرنے کا دعویٰ سامنے آیا۔دوسری جانب بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…