ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی کرکٹ زوال کا شکار، 2برس میں ناکامیوں کی طویل فہرست سامنے آ گئی

datetime 14  مئی‬‮  2026 |

لاہور (این این آئی گزشتہ 2برسوں کے دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی مسلسل تنزلی کا شکار رہی،

جہاں قومی ٹیم کو عالمی ایونٹس، دوطرفہ سیریز اور کمزور سمجھی جانے والی ٹیموں کے خلاف بھی شرمناک شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ناقص نتائج نے نہ صرف ٹیم مینجمنٹ بلکہ پاکستان کرکٹ کے مجموعی ڈھانچے پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔پاکستانی کرکٹ ٹیم گزشتہ 2برس کے دوران بدترین کارکردگی، غیر متوقع شکستوں اور عالمی ایونٹس میں ناکامیوں کے باعث شدید تنقید کی زد میں رہی ہے۔قومی ٹیم کو اس عرصے میں کئی ایسی ٹیموں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا جنہیں ماضی میں نسبتاً کمزور تصور کیا جاتا تھا۔ پاکستان ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز میں آئرلینڈ اور امریکہ جیسی ٹیموں سے بھی شکست کھا گیا جبکہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے دوسرے مرحلے کے لیے بھی کوالیفائی نہ کر سکا۔ٹیسٹ کرکٹ میں بھی پاکستان کی صورتحال مایوس کن رہی۔ قومی ٹیم کو اپنی ہی سرزمین پر بنگلہ دیش کے خلاف 2-0سے سیریز میں شکست ہوئی، جبکہ ایک ٹیسٹ میچ میں پہلی اننگز میں 556رنز بنانے کے باوجود اننگز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ون ڈے اور ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں زمبابوے کے خلاف بھی پاکستان کو شکست ہوئی،

جو شائقینِ کرکٹ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی۔چیمپئنز ٹرافی میں قومی ٹیم ایک بھی میچ جیتنے میں ناکام رہی اور سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکی۔ اسی دوران پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا۔بولنگ شعبے کی کمزور کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ٹی ٹونٹی میچ کے ابتدائی 6اوورز میں قومی ٹیم نے 92 رنز دے ڈالے۔مزید برآں پاکستان کمزور سمجھی جانے والی نیوزی لینڈ ٹیم کے خلاف 8میں سے 7میچز ہار گیا جبکہ بنگلہ دیش کے خلاف ایک ٹی ٹونٹی میچ میں پوری ٹیم صرف 110رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

قومی ٹیم 2026ء کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کے لیے بھی کوالیفائی نہ کر سکی جبکہ بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے سیریز میں شکست کے ساتھ مسلسل تیسرا ٹیسٹ میچ بھی ہار گئی۔کرکٹ ماہرین کے مطابق یہ نتائج اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ کو انتظامی، تکنیکی اور منصوبہ بندی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے، بصورت دیگر عالمی سطح پر ٹیم کی ساکھ مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…