اسلام آباد(نیوز ڈیسک)قومی کرکٹ اسکواڈ کو حالیہ مہینوں میں روایتی حریف کے خلاف ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے،
جس کے بعد شائقین میں مایوسی بڑھ گئی اور ملکی کرکٹ ڈھانچے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ وائٹ بال فارمیٹ میں گزشتہ 16 مقابلوں میں سے 13 میں کامیابی بھارت کی قومی کرکٹ ٹیم کے حصے میں آئی جبکہ صرف دو میچ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم جیت سکی، ایک مقابلہ بے نتیجہ رہا۔ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بھی حریف ٹیم کی برتری برقرار ہے اور حالیہ جیت ان کی پاکستان کے خلاف لگاتار آٹھویں کامیابی بنی۔ پاکستان نے آخری بار ستمبر 2022 میں دبئی میں ایشیا کپ کے ایک مقابلے میں بھارت کو شکست دی تھی، اس کے بعد دونوں ٹیمیں چھ مرتبہ مدِمقابل آئیں اور ہر بار فتح بھارتی ٹیم کو ملی۔کولمبو میں کھیلے گئے تازہ میچ میں پاکستانی بولنگ کارکردگی خاصی متضاد رہی۔ چار بولرز — سلمان آغا، عثمان طارق، محمد نواز اور صائم ایوب — نے 14 اوورز میں مجموعی طور پر 87 رنز دیے، جبکہ شاہین شاہ آفریدی، ابرار احمد اور شاداب خان نے صرف چھ اوورز میں 86 رنز دے ڈالے، جو نتیجے پر اثرانداز ثابت ہوا۔ مزید یہ کہ فہیم اشرف کو مسلسل تیسرے میچ میں بولنگ کا موقع نہیں دیا گیا۔اعدادوشمار کے مطابق 2017 کے چیمپئنز ٹرافی فائنل میں تاریخی کامیابی کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان وائٹ بال مقابلوں میں بھارتی ٹیم کا پلڑا نمایاں طور پر بھاری رہا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں بھی دونوں حریف نو بار آمنے سامنے آئے جن میں سے آٹھ مرتبہ بھارت کامیاب رہا، جبکہ پاکستان کو واحد فتح 2021 میں دبئی میں ملی تھی۔مسلسل ناکامیوں نے شائقین اور ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ قومی کرکٹ کے نظام میں بہتری کے لیے بنیادی سطح پر اصلاحات کب کی جائیں گی۔



















































