منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ویرات کوہلی کے ریسٹورینٹ پر ایک بھْٹے کی قیمت ”1500” روپے!

datetime 16  جنوری‬‮  2025 |

نئی دہلی (این این آئی)خراب فارم پر تنقید کا شکار ویرات کوہلی اب اپنے ریسٹورینٹ پر ایک بھٹے کی ہوشربا قیمت کے باعث سوشل میڈیا پر بھی موضوع بحث بن گئے ہیں۔مکئی جس کو عرف عام میں ”بھٹا” کہا جاتا ہے کی قیمت انتہائی کم ہوتی ہے جو عموماً 100 روپے فی کلو تک میں فروخت ہوتے ہیں اور ایک کلو میں 8 سے 10 بھٹے آتے ہیں یوں ایک بھٹا 15 روپے تک میں پڑتا ہے۔

تاہم بھارتی کرکٹ اسٹار ویرات کوہلی جو کرکٹ کھیلنے کے ساتھ کئی بزنس کر کے اپنی دولت میں دن دوگنی رات چوگنی اضافہ کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کے ریسٹورینٹ میں ایک بھٹا 525 بھارتی روپے (پاکستانی لگ بھگ 1500 روپے) میں فروخت ہو رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھٹے کی یہ حیران کن قیمت اس وقت منظر عام پر آئی جب سامنے آئی جب حیدرآباد دکن کی ایک طالبہ نے سوشل میڈیا پر بھٹے کی ایک تصویر پوسٹ کی اور لکھا کہ انہوں نے فوڈ چین ”ون ایٹ کمیون” کے مینیو میں درج 525 روپے مالیت کی ایک ڈش ”پیری پیری کارن ربز” کا آرڈر کیا اور جب وہ سامنے آئی تو حیران رہ گئی کہ پلیٹ میں بھْٹے کے چند ٹکڑے رکھے ہوئے تھے۔

سوشل میڈیا پر اس تصویر کو دیکھیں تو بھٹے کے چند ٹکڑوں کے ساتھ چٹنی رکھی ہوئی ہے اور اس کو ہری پیاز سے گارنش کیا گیا ہے۔مذکورہ فوڈ چین ون ایٹ کمیون میں ویرات کوہلی شریک ملکیت رکھتے ہیں۔مذکورہ طالبہ نے اس پوسٹ کے ساتھ اپنے 525 روپے ضائع ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور صارفین اس پر دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں۔اکثر صارفین نے اس بل کو پیش کی گئی چیز کے مقابلے میں بہت زیادہ قرار دیا جبکہ کئی ایسے صارفین بھی ہیں جو ریسٹورینٹ کے حق میں بولے اور کہا کہ فینسی ریسٹورینٹ میں پیش کی جانے والی چیز سے زیادہ وہاں کے ماحول، سروس کے پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔ایک صارف تو انتہائی دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو آرڈر کرنے سے قبل پوری معلومات لینی چاہیے تھیں، اب رونا بند کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…