بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

گیری کرسٹن کے استعفیٰ کی وجہ بابر اعظم بنے؟

datetime 29  اکتوبر‬‮  2024 |

لاہور(این این آئی)پاکستان کرکٹ ٹیم وائٹ بال کے ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے استعفیٰ دے دیا جس کی وجہ پی سی بی سے اختلاف کے علاوہ بابر اعظم سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔پاکستان کرکٹ ٹیم وائٹ بال کے کپتان کے اعلان کے اگلے روز ہی پاکستان کرکٹ کو ایک نئے بحران نے گھیر لیا اور گیری کرسٹن نے پی سی بی سے اختلافات کے باعث ہیڈ کوچ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔پاکستان کرکٹ ٹیم کی انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ میں اننگ سے شرمناک شکست کے بعد پی سی بی نے ٹیم سلیکشن سے ہیڈ کوچز کا اختیار ختم کر دیا تھا۔ گیری کو اس کے علاوہ سینٹرل کانٹریکٹ اور کوچز پر بھی تحفظات تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ وہ اپنی پسند کا سپورٹنگ اسٹاف لانا چاہ رہے تھے جب کہ اسکواڈ سلیکشن میں ووٹنگ اختیار واپس لینے سے ان کے پی سی بی سے اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ آئندہ ماہ آسٹریلیا کے بعد دورہ زمبابوے کے لیے گیری کرسٹن کے تجویز کردہ اسکواڈ میں بابر اعظم حصہ تھے اور ان کا موقف تھا کہ جنوبی افریقہ کے مشکل دوسرے سے قبل بابر اعظم کو لازمی طور پر دورہ زمبابوے میں شامل کیا جانا چاہیے۔تاہم پی سی بی نے بابر اعظم کو صرف دورہ آسٹریلیا کے لیے ٹیم میں شامل کیا اور دورہ زمبابوے میں آرام دے کر گیری کی تجویز مسترد کر دی۔

ذرائع کے مطابق گیری کرسٹن کو تعیناتی کے وقت مضبوط اختیارات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، لیکن نئی سلیکشن کمیٹی کو تمام اختیارات دے دیے گئے۔گیری کرسٹن نے اپنی بات منوانے کے لیے آخری حربہ استعمال کرتے ہوئے دورہ آسٹریلیا پر ٹیم کے ساتھ نہ جانے کی دھمکی بھی دی جو کارگر ثابت نہ ہوئی۔ پی سی بی کے اپنے موقف پر ڈٹ جانے کے باعث انہوں نے آج اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جب کہ پی سی بی نے یہ استعفیٰ منظور کرتے ہوئے ریڈ بال ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی کو دورہ آسٹریلیا کے لیے عبوری ہیڈ کوچ مقرر کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…