اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

شکست پر بہت مایوسی ہوئی، فٹنس کا معیار بہتر کرنے کی ضرورت ہے، شان مسعود

datetime 3  ستمبر‬‮  2024 |

راولپنڈی (این این آئی)پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود نے کہا ہے کہ ہوم سیریز میں شکست پر بہت مایوسی ہوئی، ہم نے دو بہترین مواقع ضائع کردیے اور خاص طور پر ٹیسٹ کرکٹ میں ہمیں اپنی مینٹل اور فزیکل فٹنس کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔بنگلہ دیش کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز میں 0ـ2 کی تاریخی شکست کے بعد بات کرتے ہوئے شان مسعود نے کہا کہ ہم نے آسٹریلیا میں شکست سے سبق نہیں سیکھا، ہمارا خیال تھا کہ ہم آسٹریلیا میں اچھا کھیل رہے تھے مگر جیت نہیں پارہے تھے تاہم ہوم سیریز میں بھی ہم سے بہت سی غطلیاں ہوئیں جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ہوم سیریز کے لیے 10 ماہ تک انتظار کیا اور ہمارے پاس دونوں ٹیسٹ میچز میں بنگلہ دیش کو آؤٹ کرنے کے مواقع تھے، خاص طور پر دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 26 پر 6 آؤٹ ہونے کے بعد ہمارے پاس نادر موقع تھا لیکن ہم اس کا فائدہ نہیں اٹھاسکے اور انہیں میچ میں واپس آنے کا موقع دیا۔قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ ہمیں ٹیسٹ کرکٹ میں مینٹل اور فزیکل فٹنس کی ضرورت ہے اور خاص طور پر بیٹرز اور باؤلرز کو پانچوں دن تک فٹ رہنا ضروری ہے، ہم نے پچھلا ٹیسٹ کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے 4 فاسٹ باؤلرز کے ساتھ کھیلا لیکن اس میچ میں ہم نے 3 فاسٹ اور ایک اسپنر کو میدان میں اتارا لیکن دونوں اننگز میں ہم ایک فاسٹ باؤلر سے محروم رہے۔انہوں نے کہا کہ پہلی اننگز میں صائم ایوب اور میں نے ملکر اچھی شراکت قائم کی، اس کے علاوہ بھی چھوٹی پارٹنرشپ بنی لیکن بدقسمتی سے کوئی بھی لٹن داس کی طرح بڑا اسکور کرنے میں کامیاب نہ ہوا۔

انہوں نے کہاکہ دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 274 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد مجھے لگا یہ اسکور بہت ہے اور پھر 26 پر 6 آؤٹ کرنے کے بعد ہمیں مزید صرف ایک وکٹ کی ضرورت تھی جس سے ہم شاید یہ میچ جیت کر سیریز برابر کرنے کی پوزیشن میں آجاتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔شان مسعود نے دعویٰ کیا کہ ہم اس وقت درست سمت میں جارہے ہیں اور تواتر کے ساتھ کھلاڑیوں کو مواقع دے رہے ہیں، ٹیم سلیکشن میں بھی مستقل مزاجی کے ساتھ جارہے ہیں، البتہ شاہین اور نسیم شاہ تینوں فارمیٹ کے کھلاڑی ہیں اس لیے ہر میچ میں ان سے توقع نہیں کی جاسکتی تاہم ہم نے جیسی پرفارمنس دینی تھی ویسی نہیں دے سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…