جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

میں کرکٹ کا کھلاڑی تھا مگر ایتھلیٹکس میں آگیا،ارشد ندیم

datetime 14  اگست‬‮  2024 |

پشاور(این این آئی) نیزہ بازی کے قومی ہیرو ارشد ندیم نے کہا ہے کہ میں کرکٹ کا کھلاڑی تھا مگر ایتھلیٹکس میں آگیا، ورلڈ اولمپکس سے قبل انجری نے پریشان کیا، آپریشن کرایا، دوسری تھرو پر ہی گولڈ میڈل جیتنے کا یقین ہوگیا تھا۔یہ بات انہوں ںنے گورنر ہاؤس پشاور میں جشن آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ارشد ندیم نے کہا کہ قوم کو یوم آزادی پاکستان مبارک ہو، اپنی فتح پر قوم، والدین کا مشکور ہوں جن کی دعاؤں سے پاکستان کے لیے گولڈ میڈل حاصل کیا۔

 

قومی ہیرو کا کہنا تھا کہ میں کرکٹ کا کھلاڑی تھا مگر اس کے بعد ایتھلیٹکس میں آگیا۔ اسپورٹس مین کا آغاز نوکری سے ہوتا ہے، جب واپڈا نے نوکری دی تومحنت شروع کی، 2016ء میں بھارت میں ایوارڈ جیتا اور اولمپکس کے لیے محنت شروع کی، 2016ء 2020ء بہت سے میڈلز جیتے، ٹوکیو اولمپکس کے لیے محنت کی تاہم وہاں انجریز کے سبب پانچویں نمبر پر آیا اس کے بعد مزید محنت کی اور جتنی کامیابیاں حاصل کیں وہ بڑی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کامن ویلتھ گیمز کے لیے محنت کی اور ورلڈ ایتھلیٹکس میں پانچویں نمبر پر آیا، اسی طرح ورلڈ اسلامک گیمز میں بھی میڈل جیتا، ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں حصہ لیا جہاں سلور میڈل جیتا، ورلڈ اولمپکس سے قبل انجری نے پریشان کیا، آپریشن کرایا اس کے بعد اولمپکس کے گولڈ میڈل کا یقین تھا۔انہوں نے کہا کہ میری وارم اپ تھرو اچھی تھی یقین تھا کہ 90 میٹر سے زیادہ نیزہ پھینکنے کا ٹارگٹ حاصل کروں گا اور دوسری تھرو پر ہی گولڈ میڈل جیتنے کا یقین ہوگیا تھا۔ آنری تھرو بھی 91 پلس پھینکی تھی یہ سب میرے کوچز کی محنت کا نتیجہ تھا، قوم دعا کرے تو آگے بھی گولڈ میڈل جیت کر دکھاؤں گا اور ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں ورلڈ ریکارڈ بریک کروں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…