بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت سہولیات دے رہی ہے مگر میں چاہتاہوں کہ ایک مناسب اتھلیٹکس اسٹیڈیم بنایا جائے’ارشد ندیم

datetime 10  اگست‬‮  2024 |

پیرس (این این آئی)پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم نے کہا ہے کہ حکومت سہولیات دے رہی ہے مگر میں چاہتاہوں کہ ایک مناسب اتھلیٹکس اسٹیڈیم بنایا جائے جہاں کھیلوں کے فروغ کیلئے مسلسل کام ہوتا رہے۔ ایک انٹرویو میں ارشد ندیم نے کہا کہ اگر نیراج چوپڑا جیت جاتا تو بھی مجھے خوشی ہوتی کیونکہ جنوبی ایشیا میں ہم دو کھلاڑی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت سہولیات دے رہی ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ پاکستان میں ایک مناسب ایتھلیٹکس اسٹیڈیم بنایا جائے۔

انھوں نے آج نیوز کے پروگرام ‘دس ‘ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت خوشی ہوں کہ میں نے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا ، میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے نوجوان مجھے دیکھ کر اس کھیل میں آئیں گے اور آگے بڑھیں گے۔انھوں نے کہا کہ حکومت سہولیات دے رہی ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ پاکستان میں ایک مناسب ایتھلیٹکس اسٹیڈیم بنایا جائے تاکہ ہمارے تمام ایتھلیٹکس ایونٹس ان اسٹیڈیمز میں صحیح طریقے سے منعقد ہوں اور حکومت کھیلوں پر توجہ مرکوز کرے تاکہ اگر تمام کھلاڑیوں کو اچھی سہولیات دی جائیں۔

نیراج چوپڑا کے حوالے سے ارشد ندیم نے کہا کہ نیراج کی والدہ مجھے اپنا بیٹا مانتی ہیں اگر نیراج چوپڑا بھی گولڈ میڈل جیت جاتا تو مجھے خوشی ہوتی جیسا کہ ایتھلیٹک چیمپئن شپ میں اس نے جیتا تھا اور میں نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ کیونکہ ہم و ہی افراد ہیں جو جنوبی ایشیا کی نمائندگی کر رہے ہیں۔پاکستانی ایتھلیٹ نے کہا کہ میری واپڈا، لیسکو میں نوکری ہے اور میں واپڈا، واپڈا سپورٹس بورڈ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھ جیسے پاکستانی ہیروز کو نوکریاں دیں۔ لیکن میں محکمے سے اپیل کروں گا کہ کھلاڑیوں کو نوکریاں دیں اور انھیں سپورٹ کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…