بس بہت ہوگیااب مزید برداشت نہیں کر سکتا،قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر محمد عامرکا مصباح الحق اور وقار یونس سے متعلق حیران کن انکشاف

  اتوار‬‮ 17 جنوری‬‮ 2021  |  18:56

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک )قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر محمد نے موجود مینجمنٹ کیساتھ کھیلنے سے انکار کر دیا، میں اپنی بات پر قائم ہوں ۔ تفصیلات کے مطابق فاسٹ بولر محمد عامر نے میڈیا کیساتھ گفتگو میں کہا ہے کہ موجودہ ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بائولنگ کوچ وقار یونس اس وقت ایک پیج پر نہیں ہیں ، یہاں ایسے چل رہا ہے کہ ہیڈکوچ اوربات کرتے ہیں تو بائولنگ کوچ کچھ اور کہہ رہے ہوتے ہیں ۔دونوں نے مجھے سائیڈ لائن پر کرنے کی پوری کوشش کی ، ہیڈکوچ مصباح الحق اور باولنگ کوچ وقار یونس مجھے بالکل پسند نہیں کرتے ، دونوں


نے مجھے پہلے سینٹرل کنٹریکٹ سے نکالا پھر ذہنی اذیت دی گئی لیکن میں خاموش رہا ۔ قومی ٹیم کے فاسٹ بائولر محمد عامر نے انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کا اعلان کردیا ہے۔ محمد عامر کا کہنا تھا کہ وہ خود پی سی بی کے پاس جاکر انہیں اپنی دستیابی سے آگاہ کریں گے اور یہ پی سی بی پر منحصر ہوگا کہ وہ انہیںسلیکٹ کرتا ہے یا نہیں۔اس سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ سے حال ہی میں کنارہ کشی اختیار کرنے والے فاسٹ بولر محمد عامر نے بتایا تھا کہ ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقار یونس مجھے ذہنی طور پر ٹارچر کرتے آئے، اب میں مزید برداشت نہیں کرسکتا۔محمد عامر نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقار یونس کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مصباح الحق اور وقار یونس میرے مقدمے کو غلط رنگ دے رہے ہیں، میں اب بھی مصباح اور وقار کے ہوتے ہوئے نہیں کھیلنا چاہتا ہوں۔انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بات اب بہت آگے نکل چکی ہے۔ محمد عامر نے کوچز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مصباح الحق اور وقار یونس میری کارکردگی پر بات کرتے ہیں،انہیں پہلے اپنی پرفارمنس دیکھنی چاہیئے۔انھوں نے کہا کہ مصباح اور وقار شکستوں کا ملبہ کورونا پر ڈال رہے ہیں، باقی دنیا کے لیے بھی کورونا ہے۔ محمد عامر نے کہا کہ وقار یونس کو میرے بیانات سے دکھ ہوا تو مجھے اس سے کہیں زیادہ دکھ پہنچا تھا۔فاسٹ بائولر نے کہا کہ مصباح اور وقار مجھے ذہنی طور پر ٹارچر کرتے آئے، اب مزید برداشت نہیں کرسکتا ہوں۔ محمد عامر کا کہنا تھا کہ میں پی سی بی یا کرکٹ سے بڑا نہیں ہوں مگر موجودہ حالات میں نہیں کھیل سکتا۔ انھوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو جب تک آسان ماحول نہیں دیں گے کارکردگی بہتر نہیں ہوسکتی۔


زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎