بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

محمد عامر کی جانب سے ریٹائرمنٹ کا اعلان پی سی بی کا حیرت انگیز ردعمل آگیا

datetime 17  دسمبر‬‮  2020 |

لاہور( آن لائن پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ محمد عامر کا کھیل سے ریٹائرمنٹ ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔پی سی بی کے ترجمان کے مطابق فاسٹ بولر محمد عامر کے مزید کرکٹ نہ کھیلنے کی خبریں میڈیا پر ہی سن رہے ہیں اس حوالے سے خود محمد عامر نے پاکستان کرکٹ بورڈ

سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ترجمان پی سی بی نے کہا کہ فاسٹ بولر ویسے بھی اب پی سی بی کے ساتھ کنٹریکٹ میں نہیں اور اس ناطے سے وہ ہم سے بات کرنے کے بھی پابند نہیں رہے، وہ اپنے فیصلے کرنے میں مکمل آزاد ہیں۔دریں اثنا اپنے ردعمل میں شاہد آفریدی کا کہناتھا کہ عامر کا ریٹائرمنٹ کا فیصلہ میرے لیے حیران کن ہے کیونکہ زندگی میں چیلنجز آتے ہیں اور ضروری نہیں ہے کہ ہر بندہ آپ کے حق میں ہو ، کچھ لوگ ہوتے ہیں جو کہ الگ سوچ رکھتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا جائے ، آپ میں کرکٹ باقی ہے اور وقت ہے تو میر ا خیال ہے کہ کسی کی باتوں میں آ کر آ پ کو کرکٹ نہیں چھوڑنی چاہیے ، آپ قابل ہیں تو ٹیم میں اپنی کارکردگی سے کم بیک کریں ۔ شاہد آفریدی کا کہناتھا کہ محمد عامر کا فیصلہ میری سمجھ میں نہیں آیا ، مجھے جب پتا چلا تو میں نے عامر سے بات کی اور اسے مشورہ دیا کہ آپ کا فیصلہ اچھا نہیں آپ نے کافی کرکٹ کھیلی ہے اور اچھے پلیئر کم بیک کرنے کی صلاحیت

رکھتے ہیں ۔شاہد آفریدی کا کہناتھا کہ کرکٹ بورڈ ہمیشہ ایک باپ کا کردار نبھاتاہے اور ایسا کرنا بھی چاہیے ، ہمارے کلچر میںیہ چیز نہیں ہے ، لیکشن کمیٹی کو اپنا منصوبہ پلیئر کوبتانا چاہیے کہ کس پلیئر کو لے کر چلناہے اور کس کو ریسٹ دینی ہے ، لیکن ہمارے بورڈ میں یہ رواج نہیں ہے ۔

پلیئر سے بات نہیں کی جاتی ، بورڈ کوشش کرتاہے کہ نئے لڑکوں کو چانس دیا جائے ، میں اس حق میں ہو ں کہ نئے لڑکوں کو موقع ملنا چاہیے اور یہ اچھی بات بھی ہے ، لیکن سینئر کھلاڑیوں کے ہمیشہ کیوں بورڈ اور مینجمنٹ کے ساتھ مسائل رہے ؟ ان مسائل کی وجہ یہ ہے کہ بات چیت کا فقدان ہے ، جب میڈیا کے ذریعے چیزیں پتا چلتی ہیں تو کمیونیکیشن گیپ اور بھی بڑھ جاتاہے ، کھلاڑیوں اور کرکٹ بورڈ کے درمیان کمیونیکیشن گیپ کو ختم کرنا چاہیے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…