بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

مبینہ گرل فرینڈ کے الزامات کے بعد بابر اعظم کی سوشل میڈیا پر پہلی پوسٹ سب کی توجہ کا مرکز بن گئی

datetime 5  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی )مبینہ گرل فرینڈ حامیزہ مختار کے الزامات کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی سوشل میڈیا پر پہلی پوسٹ سامنے آگئی ، اپنی سیلفی شیئرکرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ایک وقت میں ایک ہی کام ہوتاہے ۔دوسری جانب اب سے

کچھ دیر پہلے لاہور کی سیشن کورٹ نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم اور ان کی فیملی کو حمیزہ مختار کو ہراساں کرنے سے روکدیا ۔ نجی ٹی وی کے مطابق لڑکی حمیزہ مختار کی طرف سے بابر اعظم کے خلاف دائر درخواست کی ایڈیشنل سیشن جج عابد رضا نے سماعت کی ۔ درخواست گزار کا موقف سننے کے بعد عدالت نے بابر اعظم اور ان کی فیملی کو حمیزہ مختار کو ہراساں کرنے سے روکدیا ۔دریں اثنا پاکستان کرکٹ بورڈ نے لاہور کی لڑکی حامیزہ کے قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم پر لگائے الزامات کے معاملے کو نجی قرار دیدیا ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حامیزہ نے بابر اعظم پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ بابر مجھے کورٹ میرج کے بہانے گھر سے بھگاکر لے گیا اور مختلف جگہوں پر کرائے کے مکانوں پر رکھتا رہا۔لڑکی کا کہنا تھا کہ بابر اعظم سے میرا تعلق اس وقت کا ہے جب بابر کرکٹ نے کرکٹ کی دنیا میں قدم نہیں رکھا تھا اور بابر ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔

حامیزہ نے الزام لگایا کہ 2010 میں بابر اعظم نے مجھے میرے گھر آکر پروپوز کیا جسے میں نے قبول کر لیا، وقت گزرنے کے ساتھ ہم دونوں کی دوستی بڑھ گئی اور ہم نے شادی کا فیصلہ کیا اور فیملیز کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا ،فیملیز کے صاف انکار پر 2011 کے دوران بابر مجھے

میرے گھر سے بھگا کر کورٹ میرج کے بہانے کرائے کے گھروں پر رکھتا رہا۔متاثرہ لڑکی کے مطابق جب انھوں نے بابر سے شادی پر اصرار کیا تو بابر نے جواب دیا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں، تھوڑا وقت گزر جائے تو ہم شادی کر لیں گے۔حامیزہ نامی لڑکی کے الزامات پر پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیا سمیع الحسن نے بتایا کہ یہ بابر کا نجی معاملہ ہے، ہم اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…