بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

ٹینس کی تین خواتین کھلاڑیوں کی بیک وقت دو سرکاری اداروں میں نوکری کا حیرت انگیز انکشاف

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)ٹینس کی تین خواتین کھلاڑیوں کی بیک وقت دو سرکاری اداروں میں نوکری کا انکشاف ہوا ہے نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے انکشاف کیا کہ دو بہنوں سمیت ٹینس کی تین کھلاڑی واپڈا اور زرعی ترقیاتی بینک کیلئے بیک وقت کام کر رہی ہیں۔واپڈا میں موجود ذرائع نے بتایا کہ تینوں ٹینس کے کھلاڑی واپڈا کے پے رول پر ہیں، واپڈا نے حال ہی میں زرعی ترقیاتی بینک کو

ایک خط لکھا کہ وہ یہ دیکھ کر بتائیں کہ کیا یہ تینوں کھلاڑی زرعی ترقیاتی بینک کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔واپڈا کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی میں کہا گیا کہ یہ تینوں کھلاڑی قومی سطح پر تمام مقابلوں میں واپڈا اسپورٹس بورڈ کی نمائندگی کر چکی ہیں اور ادارے کا حصہ بننے کے بعد سے واپڈا اسپورٹس بورڈ کے مختلف انٹریونٹ مقابلوں میں بھی شرکت کرنے کے ساتھ ساتھ مستقل بنیادوں پر وظیفہ/تنخواہ بھی وصول کررہی ہیں۔واپڈا کی جانب سے 13 اکتوبر 2020 کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ مبینہ طور پر یہ کھلاڑی کھیلوں کی بنیاد پر زرعی ترقیاتی بینک کے ذیلی ادارے کسان اسپورٹس سروس لمیٹڈ سے منسلک ہیں۔زرعی ترقیاتی بینک میں موجود ذرائع نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ تینوں خواتین کھلاڑی بینک کے پے رول پر ہیں اور اس وقت ان کے ریکارڈ چیک کیے جا رہے ہیں جن سے واپڈا کو آگاہ کردیا جائے گا۔پاکستان ٹینس فیڈریشن کے سیکریٹری کرنل ریٹائرڈ گل رحمن نے کہا کہ اس کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہے، البتہ انہوں نے کہا کہ پالیسی کے تحت ایک کھلاڑی کو ایک سرکاری ادارے میں ہی نوکری دی جا سکتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کھلاڑیوں کو سہولت دی جا سکے، کھلاڑیوں کو ملک میں کھیلوں کی ترقی کے لیے حکومتی اداروں میں ترجیحی بنیادوں پر نوکریاں دی جاتی ہیں۔ڈیوس کپ جیتنے والے قومی کھلاڑی مصحف ضیا نے کہا کہ نوکری تمام کھلاڑیوں کے لیے ضروری ہے اور تمام حکومتی اداروں اور محکموں کو ان کو یہ سہولت دینی چاہیے البتہ کسی کو بھی دو نوکریاں نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ اس سے دیگر مستحق کھلاڑیوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…