جمعرات‬‮ ، 05 مارچ‬‮ 2026 

پی ایس ایل ون اور ٹو میں 2 ارب77 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

datetime 30  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی میں پی ایس ایل ون اور ٹو میں 2 ارب77 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین احسان مانی نے پی اے سی کو بتایا ہے کہ میں صرف نگرانی کرتا ہوں، ادارہ کے ہر معاملہ میں مداخلت نہیں کرتاجس پر پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے چیئر مین پی سی بی احسان مانی کے

جواب پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ ادارے کے ذمہ دار ہیں، غیر ذمہ دارانہ باتیں نہ کریں،چیئرمین پی سی بی ادارہ کے سربراہ ہیں ایک ایک پائی کا حساب دینا ہوگا۔ بدھ کو رانا تنویر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کااجلاس ہوا جس میں پاکستان سپر لیگ ون اور ٹو کی خصوصی آڈٹ رپورٹ زیر غور آیا ۔ چیئر پی پی اے سی نے بتایاکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی خصوصی آڈٹ رپورٹ کیوں نہیں آئی۔ سیکرٹری آئی پی سی نے کہاکہ محکمہ آڈٹ نے ہمیں ورکنگ پیپر نہیں دیا۔ چیئر مین پی اے سی نے کہاکہ چیئرمین پی سی بی جواب دیں۔ چیئر مین پی سی بی احسان مانی نے کہاکہ میں صرف نگرانی کرتا ہوں، ادارہ کے ہر معاملہ میں مداخلت نہیں کرتا۔ پی اے سی نے چیئرمین پی سی بی کے جواب پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ آپ ادارے کے ذمہ دار ہیں، غیر ذمہ دارانہ باتیں نہ کریں۔ رانا تنویر حسین نے کہاکہ سیکریٹری آئی پی سی کرکٹ بورڈ والوں کو بلا کر سمجھائیں کہ نظام کیسے چلتا ہے۔ پی اے سی نے کہاکہ چیئرمین پی سی بی ادارہ کے سربراہ ہیں ایک ایک پائی کا حساب دینا ہوگا۔ اجلاس کے دور ان پی ایس ایل ون اور ٹو کی خصوصی آڈٹ رپورٹ کمیٹی میں پیش کی گئی ،پی ایس ایل ون اور ٹو میں 2 ارب77 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ، رپور ٹ کے مطابق پہ ایس ایل میں تین ٹیموں کی فرنچائز کم قیمت پر فروخت کی گئی،پی سی بی کو 11 لاکھ ڈالر سالانہ کا نقصان ہوا،اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی اور کوئیٹہ کی فرینچائز کم قیمت پر نیلام کی گئی۔ احسان مانی نے کہاکہ اسوقت حالات مشکل تھے پی ایس ایل کا انعقاد ضروری تھا،پی سی بی پر پپرا قوانین لاگو نہیں ہوتے۔ نوید قمر نے کہاکہ پی سی بی خودمختار ہو گا لیکن اس کی مالک حکومت ہے۔ سیکرٹری آئی پی سی نے کہاکہ پی سی بی کہتا ہے کہ ہم ایک پائی حکومت سے نہیں لیتے۔ انہوںنے کہاکہ اسوقت ٹیموں کی نیلامی پر پپرا قوانین لاگو نہیں تھے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے فرینچائز مالکان کو سینٹرل پول سے طے شدہ رقم سے زیادہ ادائیگی کی۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے فرینچائز مالکان کو 24 کروڑ 86 لاکھ روپے اضافی ادا کیے۔ پی اے سی نے پی ایس ایل کی مالی بے قاعدگیوں کی محکمانہ انکوائری کی ہدایت کی ۔ چیئر مین پی اے سی نے کہاکہ سیکرٹری آئی پی سی خود ایک ماہ میں تحقیقات کر کے رپورٹ دیں۔ نور عالم خان نے کہاکہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ پی سی بی میں کوئی چوری ہو گی تو ہم نہیں پکڑیں گے۔ چیئرمین پی اے سی نے اجلاس ملتوی کردیارانا تنویر حسین نے کہاکہ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…