بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

پی سی بی نے اربوں کمائے، ہم نے اربوں روپے کا نقصان اٹھایا، پی ایس ایل فرنچائززنے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا

datetime 28  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور( آن لائن )پی ایس ایل کی فرنچائزز کا کہنا ہے کہ پی سی بی کی سرد مہری کے سبب عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوئے جبکہ ایونٹ کے آغاز سے اب تک اربوں روپے کا نقصان اٹھایا۔ پی ایس ایل کی 6 فرنچائزز نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں کہا کہ پی سی بی کی جانب سے مسائل حل کرنے پر توجہ نہ دیے جانے پر ہم نے عدالت سے رجوع کیا،

پاکستان میں کرکٹ کے فروغ اور ملک کا مثبت تاثر اجاگر کرنے کیلیے ہم اپنا کردار جاری رکھنا چاہتے ہیں،پی ایس ایل دنیا کی واحد لیگ ہے جس میں نجی سیکٹر کی جانب سے اس وقت سرمایہ کاری کی گئی جب اس کا کوئی نام نہیں تھا۔ترجمان نے کہا کہ ایونٹ کی وجہ سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹرز کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا،فرنچائزز نے اس ضمن میں اپنا کردار ادا کیا اور یہ سلسلہ جاری بھی رکھنا چاہتی ہیں، ہمیں موجودہ فنانشل ماڈل اور طریقہ کار پر سنجیدہ نوعیت کے تحفظات ہیں،بدقسمتی سے بار بار کوشش کے باوجود پی سی بی نے معاملات پر بات چیت اور غور کرنے میں کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی، آغاز سے اب تک فرنچائزز نے اربوں روپے کا نقصان اٹھایا جبکہ بورڈ نے اربوں کمائے ہیں، 5 سیزن میں گھاٹے میں رہنے اور پی سی بی کی جانب سے ہمارے تحفظات کو مسلسل نظر انداز کیے جانے کے بعد فرنچائزز لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے پر مجبور ہوئیں۔انھوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کوشش کی کہ تنازعات دوستانہ ماحول میں اور بغیر کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے حل ہوجائیں لیکن پی سی بی کی سرد مہری نے عدالت میں جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا، پٹیشن میں ہمارا موقف ہے کہ انتظامی اور کنٹریکٹ دونوں تناظر میں پی ایس ایل کا فنانشل ماڈل پاکستان میں کرکٹ کے فروغ کے مقاصد سے متصادم ہے، معاملہ عدالت میں ہونے کی وجہ سے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے، بہرحال ہم پی ایس ایل کو ایک کامیاب ایونٹ بنانے کیلیے اپنا کردار ادا کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…