بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی کو کچراچی بنانے والوں کے گریبان پر ہاتھ کون ڈالے گا؟ شاہد آفریدی بھی صورتحال پر برس پڑے

datetime 26  اگست‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور اسٹار آل راونڈر شاہد خان آفریدی نے کراچی کی موجودہ صورتحال پر مایوسی اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا یہ ہمارا قصور ہے کہ رہنے کے لئے اس شہر کا انتخاب کیا، یہاں ٹیکس دیتے ہیں لیکن بدلے میں

انتظامیہ کون سی ذمہ داری پوری کرتی ہے۔ کراچی کو کچراچی بنانے والوں کے گریبان پر ہاتھ کون ڈالے گا؟سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شاہد آفریدی نے پیغام میں لکھا کہ ہم نے بھی اپنے بچپن میں اس شہر کو ایسے ہی تباہ ہوتے دیکھا تھا اور شرم آتی ہے کہ اب ہمارے بچے بھی اس کی بربادی کے گواہ ہیں۔ سیاسی وابستگیوں سے قطع نظر ملک کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر انتظامیہ کی سب سے بڑی ناکامی ثابت ہو چکا ہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی کے حالات پر اب چپ رہنا مجرمانہ خاموشی ہے، دل خون کے آنسو روتا ہے۔ صبح سے لائٹ نہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، گلیاں پانی سے بھر گئیں، لوگ ڈوب رہے ہیں، گٹر ابل رہے ہیں اور کچرا بستیاں نگل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوکل، صوبائی اور وفاقی حکومتیں مکمل ناکام ہو چکی ہیں۔ شاہد آفریدی نے شہر کے مختلف علاقوں کی تصاویر بھی شیئر کیں جہاں صورتحال انتہائی خراب ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…