جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

کامیابی کو 4 سال قبل ہونے والی مایوسی کا ازالہ سمجھتا ہوں،انعام بٹ

datetime 17  اپریل‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)21ویں کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے واحد گولڈ میڈلسٹ پہلوان انعام بٹ نے کہا ہے کہ وہ اس کامیابی کو 4 سال قبل ہونے والی مایوسی کا ازالہ سمجھتے ہیں۔برطانوی ویب سائٹ کو انٹرویو میں انعام بٹ نے کہاکہ میں جب گولڈ کوسٹ پہنچا تو صرف گولڈ میڈل کے بارے میں سوچ رہا تھا،گذشتہ کامن ویلتھ گیمز کے ریسلنگ مقابلوں میں جب بھارت کا ترانہ بجا تومیرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا کہ ہمارا قومی پرچم و ترانہ کیوں شامل نہیں.

انعام بٹ نے بتایا کہ میں گلاسگو میں گھٹنے کی تکلیف میں مبتلا ہوگیا اور ڈاکٹرز نے کہہ دیا تھا کہ میں 6 ماہ تک ریسلنگ نہیں کرسکتا، اس کے باوجود میں نے ایک ٹانگ پرمقابلے کیے اور 3 فائٹس جیتیں لیکن کانسی کے تمغے کیلئے ہونے والی فائٹ 6-6 پوائنٹس سے برابر ہونے کے بعد ٹیکنیکل بنیاد پر ہارگیا۔پاکستانی پہلوان نے کہاکہ کامن ویلتھ گیمز سے قبل میں نے حکومت سے ٹریننگ کے لیے مالی مدد کی اپیل کی لیکن اس کا کوئی اثر نہ ہوا، میری ایک وڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں حکومت سے کہا تھا کہ وہ مجھے کامن ویلتھ گیمز کی ٹریننگ کیلئے 10 لاکھ روپے دے اور اگر میں تمغہ نہ جیت سکوں تو میں یہ رقم واپس کردوں گا،اس اپیل کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا اور مجھے ٹریننگ کے لیے پاکستان ریسلنگ فیڈریشن اور اپنی مدد آپ پر ہی بھروسہ کرنا پڑا۔انعام بٹ نے کہا کہ وہ کامن ویلتھ گیمز میں 2 طلائی تمغے جیتنے والے واحد ریسلر ہیں تاہم حکومت کی جانب سے پذیرائی نہ ہونے پرمایوس بھی ہیں۔ انھوں نے 2010 میں پہلی بار بھارت میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتا تھا،وہ ایشین بیچ چمپئن شپ، سائوتھ ایشین گیمز، کامن ویلتھ ریسلنگ چمپئن شپ اور ورلڈ بیچ گیمز میں بھی طلائی تمغے جیت چکے ہیں۔ریسلر نے کہاکہ پتہ نہیں میں کونسا میڈل جیتوں گا جس پر میرا نام بھی پرائیڈ آف پرفارمنس کیلئے نامزدکیا جائے گا۔ گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے ریسلر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ حکومت اس بات پر توجہ دے کہ کون سا کھیل اورکون سے شہر پاکستان کو سب سے زیادہ میڈلزجیت کر دے رہے ہیں۔

انعام بٹ نے کہاکہ ورلڈ بیچ گیمز میں طلائی تمغہ جیتنے کے بعد سیکرٹری پنجاب اسپورٹس کی ہدایت پرمجھے گوجرانوالہ میں ایک چھوٹی سی جگہ دی گئی اس کو بہتر کرنے کیلئے میں نے پی ایس بی کی جانب سے دیے گئے 5 لاکھ روپے لگادئیے ٗ وہ جگہ اتنی چھوٹی ہے کہ ریسلنگ کا میٹ بھی اس پر پورا نہیں آتا تاہم میں نہ صرف وہاں ٹریننگ کرتا ہوں بلکہ 40،50 لڑکوں کو بھی ٹریننگ دے رہا ہوں۔ میں ریسلنگ فیڈریشن کے ارشد ستارکا معترف ہوں جو ریسلنگ کے لیے دن رات کام کررہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ گولڈ میڈل کے حصول کے بعد میں زیادہ سوچنا نہیں چاہتا بلکہ میری نظریں اگلے ہدف پر ہیں، وسائل کتنے ہی محدود ہوں اور حکومت مدد کرے یا نہ کرے میں اپنی محنت جاری رکھوں گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…