پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم کی جانب قومی کرکٹ ٹیم کیلئے انعامی رقم کا اعلان ہائی کورٹ میں چیلنج

datetime 3  جولائی  2017 |

 اسلام آباد(آئی این پی )   وزیراعظم کی جانب  قومی کرکٹ ٹیم کیلئے  انعامی رقم دینے کا اعلان ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا،22 کروڑ کی خطیر رقم ٹیکس کے پیسے سے کیوں بانٹی جارہی ہے، کھلاڑی تنخواہ اور دیگر میچ فیس بھی لیتے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے چیمپئینز ٹرافی جیتنے والی قومی کرکٹ ٹیم کو انعامی رقم دینے کا اعلان اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ درخواست

گزار کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 22 کروڑ کی خطیر رقم ٹیکس کے پیسے سے کیوں بانٹی جارہی ہے، کھلاڑی تنخواہ اور دیگر میچ فیس بھی لیتے ہیں لہذا عدالت معاملے پر حکم امتناع جاری کرے اور وزیراعظم کو ٹیکس کا پیسہ بانٹنے سے روکے۔ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے درخواست کی سماعت کے موقع پر استفسار کیا کہ بتایا جائے وزیراعظم کس قانون کے تحت کتنی رقم کھلاڑیوں کو دے سکتے ہیں، عدالت نے رقم دینے سے متعلق ڈپٹی اٹارنی جنرل سے قانونی معاونت طلب کرلی اور متعلقہ قوانین پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست کی سماعت کل تک ملتوی کردی ہے۔

پاکستان بھر سے مزید خبریں پڑھیں

 پاکستانی  افواج  کسی بھی خطرے کا  منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے،وزیراعظم

اسلام آباد(آئی این پی) وزیراعظم محمد  نواز شریف نے پاک فضائیہ  کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں  کی تعریف  کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی  افواج  کسی بھی خطرے کا  منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔پیر کو وزیراعظم نواز شریف سے پاک فضائیہ کے سربراہ  ائیر چیف مارشل سہیل امان نے ملاقات کیجس میں پاک فضائیہ کی ترقیاتی حکمت عملی سے متعلق  امور پر اور پاک فضائیہ  کے اہداف  پر تبادلہ خیال کیا گیا  اور  پاک فضائیہ کی ترقیاتی حکمت عملی  سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔ ائیر چیف نے پاک فضائیہ کی پیش وارانہ صلاحیتوں اور تربیتی امور سے متعلق بریفنگ دی۔وزیراعظم نے  پاک فضائیہ کی پیش ورانہ صلاحتیوں کی تعریف کی۔ اور کہا کہ پاک پاکستانی افواج  کسی بھی خطرے کا منہ توڑ جواب دینے  کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔ ملاقات میں  وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور مشیر خارجہ  سرتاج عزیز بھی موجود تھے۔

ہماری جے آئی ٹی جیل میں اور حکمرانوں   کی محلوں میں ہورہی ہے،ڈاکٹر عاصم حسین 

کراچی(آئی این پی) پیپلزپارٹی  کے رہنما ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا کہ ہماری  جے آئی ٹی جیل میں اور حکمرانوں   کی محلوں میں ہورہی ہے،سندھ میں نیب کا قانون  میرے لیے ختم  نہیں  کیا جارہا، وزیراعلیٰ  پنجاب یا ان کے خاندان  کو جے آئی ٹی  بلا  ئے تو ان کو تکلیف  ہوتی ہے۔تفصیلات کے مطابق پیر کو احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  ڈاکٹر عاصم  حسین نے کہاکہ ہماری مائیں بہنیں  بھی عدالتوں  میں پیش ہوتی ہیں۔  وزیراعلیٰ پنجاب   یا کسی بڑے کو بلایا جائے  تو ان تکلیف ہوتی ہے۔ ہم بھی  پیش ہوتے ہیںیہ بھی خاموشی سے مقدمات کا سامنا کریں۔ ہماری  جے آئی ٹی  جیل میں اور ان کے محلوں می ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے  حراست میں لیا گیا۔ انہیں کیوں نہیں لیا گیا۔نیب  کا قانوں میرے لیے  ختم نہیں کیا جارہا۔عابد شیر علی نے مجھ سے گیس کنکشن حاصل کرکے  فائدہ اٹھایا ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…