منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

’’ پی ایس ایل فائنل کا کامیابی سے انعقاد‘‘ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ ضرور بحال ہوگی!

datetime 8  مارچ‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی)پاکستان کر کٹ بورڈ(پی سی بی )کے چیئرمین شہریار خان نے کہا ہے کہ پی ایس ایل فائنل کے بعد ملک میں کرکٹ کے بند دروازے کھل جانے کا تاثر درست نہیں ہے، بنگلا دیش اور سری لنکن ٹیموں کا رواں برس پاکستان آنے کا کوئی امکان نہیں،ورلڈ الیون کا بھی دورہ پاکستان یقینی نہیں، نیپال، یو اے ای اور اومان سمیت ایشیائی ٹیموں کو پاکستان میں اے ٹیم سے میچز کھیلنے کیلئے مدعوکیا ہے،دورہ ویسٹ انڈیز

مصباح الحق کا آخری دورہ ہو سکتا ہے۔اپنے ایک انٹر ویو میں پی سی بی چیئر مین شہریارخان نے کہا کہ پی ایس ایل فائنل کے بعد ملک میں کرکٹ کے بند دروازے کھل جانے کا تاثر درست نہیں ہے، آسٹریلیا اور انگلینڈ تو دور کی بات بنگلا دیش اور سری لنکن ٹیموں کے بھی مستقبل قریب میں پاکستان آنے کا کوئی امکان نہیں لگتا،البتہ ہم نے انھیں دعوت ضرور دی ہے۔ چیرمین پی سی بی نے کہا کہ لاہور میں منعقدہ میچ اچھا رہا، ہمیں اپنے سیکیورٹی انتظامات دنیا کو دکھانے کا موقع ملا، جو غیرملکی لاہور آئے وہ اپنے اپنے ملک جا کر رپورٹ دیں گے، طویل سفر میں ابھی پہلا قدم ہی اٹھایا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ رواں برس کوئی بھی غیرملکی ٹیم پاکستان نہیں آ رہی، ورلڈ الیون کے دورے کا بھی صرف امکان ہے ابھی وہ یقینی نہیں ہوا، اگر معاملات طے پا گئے تو ایک ہفتے کے ٹور میں 3،4 ٹوئنٹی 20میچز کھیلے جائینگے۔ ہم نے نیپال، یو اے ای اور اومان سمیت ایشیائی ٹیموں کو پاکستان میں اے ٹیم سے میچز کھیلنے کیلئیمدعو کرلیا، ان سے کہا گیا ہے کہ فور اسٹار ہوٹلز جیسی رہائشی سہولتوں کی حامل ہماری اکیڈمیز میں آ کر قیام کریں، انہیں بھرپور سیکیورٹی فراہم کریں گے۔ اسی طرح بنگلا دیشی ویمنز ٹیم دورہ کر چکی دیگر کو بھی بلائیں گے۔ شہریارخان نے کہا کہ مصباح الحق کی زیرقیادت دورئہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں ٹیم ناکام رہی ، واپسی پر میں نے کپتان کو وقت دیا کہ وہ اہل خانہ و

دوستوں وغیرہ سے مشاورت کے بعد مستقبل کا فیصلہ کریں، ان کا کہنا تھا کہ وہ پی ایس ایل میں اپنی فارم اور فٹنس دیکھ کر ہی کوئی جواب دیںگے، اب ٹی ٹوئنٹی ایونٹ کیلیے ہانگ کانگ روانگی سے قبل مصباح نے مجھ سے ملاقات میں دورئہ ویسٹ انڈیزپر جانے کی خواہش ظاہر کر دی، کپتان کا فیصلہ میری صوابدید پر ہوتا ہے اور میں نے انھیں برقرار رکھا، یہ درست ہے کہ اب ان کی پرفارمنس زیادہ اچھی نہیں اور ٹور تک وہ 43

برس کے ہو چکے ہوںگے مگر ہمیں ملک کیلیے مصباح کی خدمات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، انھوں نے ٹیم کو ٹیسٹ میں نمبر ون بھی بنایا، بدقسمتی سے چند میچز میں کامیاب نہ ہو سکے۔ وہ اب کامیابی کے ساتھ کیریئر کا اختتام چاہتے ہیں، مجھے نہیں لگتا کہ ویسٹ انڈیز سے ٹیسٹ سیریز کے بعدمصباح ملک کیلیے مزید کھیلیں گے۔ چیئرمین بورڈ نے کہا کہ کوچ مکی آرتھر نئے ٹیلنٹ کو دیکھنا چاہتے ہیں اسی لیے بدھ سے لاہور

میں کیمپ لگ رہا ہے، اس دوران اسپن و پیس بولنگ کے ساتھ بیٹنگ میں بھی نئے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو جانچا جائے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…