گوجرانوالہ (آن لائن) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے عامر کو معاف کیا ہے پی سی بی نے نہیں‘ معافی مانگنے کے بعد عامر اور سلمان کی واپسی کا فیصلہ کیا جائے گا‘ بھارت سیریز کے معاہدے کی پابندی نہیں کر رہا ہے۔ اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آصف اور سلمان کی واپسی کے لئے پروگرام مرتب کیا گیا ہے اور ان کی طرف سے معافی مانگنے کے بعد ان کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کھلاڑیوں کو شہرشہر جا کر عوام سے معافی مانگنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی نے اعتراف کیا ہے کہ پاک بھارت سیریز سب سے اہم ہوتی ہے۔ ورلڈ میں پاکستان اور بھارت کا میچ سب سے زیادہ دیکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سیریز کے معاہدے کی پابندی نہیں کر رہا ہے۔ پاک بھارت تعلقات سے کرکٹ متاثر نہیں ہونی چاہئے۔ چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ کوشش ہے کہ بھارت سے جلد کرکٹ بحال ہو۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے ابھی تک ہمارے خط کا جواب نہیں دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونس خان کی کارکردگی بہتر رہی ہے۔ کھلاڑیوں کو اپنی فٹنس اور کارکردگی پر توجہ دینی چاہئے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے عامر کو معاف کیا ، پی سی بی نے نہیں‘ شہریار خان
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
چین جائیں
-
مون سون بارشیں برسانے والا نیا سسٹم پاکستان میں کب داخل ہوگا ؟محکمہ موسمیات نے خوشخبر ی سنا دی
-
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے غیرملکی خواتین کے اغواءکے پس پردہ حقائق بتا دیئے
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا
-
سانحہ جھیل سیف اللہ: (ر) کمانڈرعامر کے برادر نسبتی نے قتل کا شبہ ظاہر کردیا، بھتیجے پر سنگین الزامات
-
متعدد بار زیادتی کی گئی، رضا ڈار کیس میں غیر ملکی خاتون کے تہلکہ خیز انکشافات
-
سونے کی قیمت میں آج بھی بڑا اضافہ
-
رضا ڈار، ا سحاق ڈار کا نواسہ ہے، غیر ملکی لڑکیوں سے 15 لاکھ ڈالرز وصول کیے گئے لیکن رضا ڈار نے لڑکی...
-
پاکستان میں سونے کی قیمت میں کمی
-
750 روپے مالیت کے پرائز بانڈ رکھنے والوں کیلئے خوشخبری
-
ٹیلی کام شعبے میں بڑا انقلاب، ٹیلی نار پاکستان اور یوفون ایک کمپنی بن گئے
-
جمعہ کی ہفتہ وار تعطیل ختم،نوٹیفیکیشن جاری
-
تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، عالمی مارکیٹ سے ایک اور خوشخبری
-
وزیراعظم اپنا گھراسکیم کا دائرہ وسیع، نان بینکنگ کمپنیاں بھی پروگرام میں شامل



















































