ڈھاکہ (نیوزڈیسک) قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ چاہتے تو ورلڈ کپ کے بعد بھی کھیل سکتے تھے تاہم انہوں نے نئے ٹیلنٹ کو ٹیم میں جگہ دینے کیلئے اپنے کیریئر کی قربانی دی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے نہ کبھی اپنے ساتھ زیادتی ہونے دی اور نہ ہی کبھی ٹیم کے ساتھ زیادتی کی۔ اس موقع پر آفریدی نے ٹیسٹ کی کپتانی چھوڑنے کی وجہ اسے انجوائے نہ کرپانا بتائی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کھیل کو انجوائے نہیں کررہے تو اس میں سکور کرنا بھی مشکل ہے، اسی لئیے میں نے ٹیسٹ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
میرے لئے پانچ ورلڈ کپ کھیلنا بہت اعزاز کی بات ہے۔ بڑے بڑے ناموں کے ساتھ کھیل کر یہاں تک پہنچا ہوں۔ ون ڈے کے موجودہ کپتان اظہر علی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اچھے بیٹسمین اور اچھے انسان ہیں مگر ہماری ٹیم کو جارحانہ کپتان کی ضرورت ہے۔ وقار یونس اور مشتاق احمد کو چاہئے کہ انہیں جارحانہ انداز سے قیادرت کرنا سکھائیں۔ ورلڈ کپ کے پہلے سے آخری میچ تک میڈیا کا کردار بہت منفی تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے احمد شہزاد کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا اور ہر اس کھلاڑی کو ٹیم میں لانے کی کوشش کروں گا جو ٹیم کے لئے اچھا ہو۔
نئے ٹیلنٹ کی خاطر ون ڈے کیریئر کو قربان کیا، آفریدی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے: حامد میر...
-
بجلی صارفین ہوشیار! شام 5 سے رات 1 بجے کے دوران لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول آگیا
-
لائیو شو میں غیر اخلاقی حرکت پر فضا علی کا ردعمل سامنے آگیا
-
پاکستان کے اہم علاقے سے سونانکل آیا ، مقامی آبادی کی بڑی تعداد جمع ہو گئی
-
درجنوں سیاسی خاندان تحریک انصاف میں شامل
-
شین وارن کی موت کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ بیٹے نے 4 سال بعد نام بتا دیا
-
اختیارات کے ناجائز استعمال اور خاتون سے ناجائز تعلقات قائم کرنے پر ڈی ایس پی نوکری سے فارغ
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ
-
پہلے خریدیں بعد میں پے کریں ، مشہور کمپنی علی بابا کا پاکستان کیلئے اہم اعلان ، لائسنس جاری ہو گیا
-
گریٹ گیم
-
معروف ریسٹورنٹ سے مضرِ صحت گوشت برآمد ، سیل کر دیا گیا
-
توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری
-
سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور ’’ہاؤسنگ کالونی‘‘ منظور، کون ہوگا اہل؟



















































