جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

آپس میں اختیارات کی جنگ،ٹیم میں کپتانی کا”ورلڈ کپ“ شروع

datetime 27  مارچ‬‮  2015 |

لاہور(نیوز ڈیسک) آپس میں اختیارات کی جنگ لڑنے والے پی سی بی حکام نے اب ٹیم میں بھی کپتانی کا ”ورلڈکپ“ شروع کرا دیا،امیدواروں کی لمبی قطار سے تقرری کا معاملہ پیچیدگی کا شکار ہوگیا، جب قرعہ فال کسی ایک کے نام نکلے گا تو احساس محرومی کے شکار دیگر کھلاڑیوں کی جانب سے اختلافات کو ہوا دینے کا خدشہ ہے۔خود فیصلہ کرنے کے دعویدار چیئرمین نے مشاورت کے عمل کو طول دینے کا فیصلہ کرلیاہے۔ تفصیلات کے مطابق بورڈ میں طویل عرصے سے اختیارات کی جنگ جاری ہے، اس وجہ سے ٹیم کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی اور ورلڈکپ میں کوارٹر فائنل تک محدود رہنا پڑا،اب مصباح کی ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد شائقین کی نگاہیں نئے کپتان کی متلاشی ہیں۔چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے کہا تھا کہ قومی ٹیم کیلیے نئی قیادت کا فیصلہ وہ خود کرینگے لیکن انکی مشاورت کا عمل طویل ہوتا جا رہا ہے،انھوں نے ٹیسٹ کپتان مصباح الحق سے بھی صلاح مشورہ کیا، بورڈ کے سابق سربراہان خالد محمود اور توقیر ضیا سے بھی ملاقات ہوچکی، مگر ابھی تک یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں کہ ٹیم کی قیادت کسی نوجوان کو سونپی جائے یا سینئر کھلاڑی کو قائد اور نوجوان کھلاڑی کو نائب مقرر کرکے مستقبل کیلیے تیار کیا جائے۔ذرائع کے مطابق سینئرز میں حفیظ اورشعیب ملک اس دوڑ میں سب سے آگے ہیں جبکہ نوجوان کھلاڑیوں میں صہیب مقصود، اظہر علی، سرفرازاحمد، وہاب ریاض اور فواد عالم کے نام زیرغور ہیں۔ نئے کپتان کی تقرری کے حوالے سے شائقین کے ساتھ قومی کرکٹرز میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے، امیدواروں کی لمبی قطار سے معاملہ پیچیدگی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔کئی نام گردش میں ہیں،دستیاب کھلاڑیوں میں سے کوئی بھی اتنی غیر معمولی پرفارمنس کا حامل یا قد آور نہیں کہ خود بخود ہی نظر انتخاب اس پر آکر ٹھہر جائے،اس صورتحال میں قرعہ فال تو کسی ایک کے نام نکلے گا، احساس محرومی کا شکار دیگر کھلاڑیوں کی جانب سے اختلافات کو ہوا دینے کا خدشہ ہے، شہریار خان جمعے کوکراچی جارہے ہیں جہاں سابق کرکٹرز سے ملاقاتوں کے بعد کوئی حتمی فیصلہ سامنے آئے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…