بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

بنگلادیشیوں نے رمیزراجہ کو جلا ڈالا‎

datetime 24  فروری‬‮  2015 |

ڈھاکا: بنگلہ دیشی شائقین سابق پاکستانی کرکٹر اور کرکٹ کمنٹیٹر کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھانے والے رمیزراجہ سے شدید ناراض ہوگئے ہیں جنہوں نے افغانستان کیخلاف میچ میں سابق پاکستانی کپتان کے منفی تبصروں کے بعد ڈھاکا میں ان کی تصاویر اور پتلے بھی نذر آتش کرنے سے گریز نہیں کیا۔ذرائع کے مطابق بنگلا دیشی شائقین کواس بات پر اعتراض ہے کہ افغانستان کی غیرضروری حمایت کرتے ہوئے رمیزراجہ نے ان کی ٹیم ہی نہیں بلکہ ملک کو بھی تضحیک کا نشانہ بنایا اور وہ تبصرے کے دوران بنگلا دیشی کھلاڑیوں کی عرفیت کو بھی کھل کر مذاق کا نشانہ بناتے رہے جبکہ انہوں نے ملکی ٹریفک نظام کو بھی نہیں بخشا۔ان کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش اور افغانستان کے درمیان پول اے کے میچ میں رمیز راجہ میچ کے آغاز سے ہی بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان کی کرکٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔بنگلادیشی شائقین کے مطابق رمیز راجہ نے ان کے ملک کے کھلاڑیوں کے نام بھی بگاڑے اور ساتھ ساتھ ملک میں کھیل کی ترقی کے لیے بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے کردار پر بھی انگلیاں اٹھائیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…