پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

خلیفہ ہارون الرشید،اہلیہ زبیدہ اور طلاق

datetime 10  جنوری‬‮  2019 |

اختلاف نے جب طول پکڑا تو ہارون نے غصے میں قسم کھا لی کہ آنے والی رات تم میری سلطنت سے باہر گزارو ورنہ تمھیں طلاق….ہارون الرشید کی حدود سلطنت مشرق میں چین سے لے کر مغرب میں فرانس کی نواح تک پھیلی ہوئی تھی ، پھر ایسی وسیع و عریض سلطنت کو ایک ہی رات میں ہارون الرشید کی اہلیہ کیونکر طے کر سکتی تھی، جبکہ اس وقت نقل و حمل کے وسائل و ذرائع بھی آج کی طرح تیز رفتار نہ تھے

.اب بات زبان سے نکل چکی تھی، اہلیہ بھی کوئی معمولی خاتون نہ تھی، زبیدہ تھی جو اسے جان سے زیادہ عزیز تھی ….وقت تیزی سے گزر رہا تھا اور یہ دونوں نہایت پریشان، ادھر ہارون اپنی سبقت لسانی پر شرمندہ و پشیمان بھی تھا. چنانچہ اس معمہ کو حل کرنے کے لیے بڑے، بڑے علماء ہارون الرشید کی خدمت میں بلائے گئے…ان میں قاضی ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ بھی تھے، جب علماء کے سامنے اس مسئلے کو رکھا گیا تو سارے غور و خوض میں لگ گئے لیکن مسئلہ کا کوئی معقول حل نظر نہیں آ رہا تھا اس لیے ہر طرف خاموشی طاری ہو گئی، ہاں ایک بات پر سب ہی کو اتفاق تھا کہ اس طرح شرع میں طلاق ہو جاتی ہے، اس لیے ہارون الرشید کی دی ہوئی طلاق واقع ہو گئی …اب علماء کی نظریں قاضی ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کی طرف اٹھیں کہ :”حضرت اس کا آپ کے پاس کوئی حل ہے … اس کا آپ کے پاس کیا جواب ہے …؟؟؟”قاضی ابو یوسف مسکرائے، خلیفہ کی طرف دیکھا اور گویا ہوئے :”آپ کی قسم ایک صورت میں واقع ہونے سے بچ سکتی ہے …!ہارون الرشید :”وہ کون سی صورت ہے …؟”امام ابو یوسف :”اپنی بیوی سے کہیں کہ وہ آج رات کسی بھی مسجد میں گزار لیں، اس لیے کے مسجد آپ کی ملکیت میں نہیں ہے، وہ آپ کی سلطنت سے باہر ہے .

کیونکہ اللہ تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے کہ :ترجمہ : ” اور یہ کہ مساجد صرف اللہ کے لیے ہی خاص ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو ” (الجن :18) …امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا یہ فتوی سن کر تمام علماء عش، عش کر اٹھے اور ان کی ذہانت و فطانت کے قائل ہو گئے …چنانچہ قاضی ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کے فتوی کے مطابق ہارون الرشید کی اہلیہ زبیدہ نے رات مسجد میں گزاری اور اس طرح ہارون الرشید کی اہلیہ کو طلاق ہوتے، ہوتے رہ گئی …



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…