بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

شرابی کا جنازہ

datetime 6  جنوری‬‮  2019 |

ايک بزرگ علیہ الرحمۃفرماتے ہیں کہ ايک بار نصف رات گزر جانے کے بعد ميں جنگل کی طرف نکل کھڑا ہوا ۔راستے ميں ميں نے ديکھا کہ چار آدمی ايک جنازہ اٹھائے جا رہے ہيں ۔ميں سمجھا کہ شايد انہوں نے اسے قتل کيا ہے اور لاش ٹھکانے لگانے کے ليے کہيں لے جارہے ہيں ۔

جب وہ ميرے نزديک آئے تو ميں نے ہمت کر کے ان سے پوچھا :اللہ عزوجل کاجو حق تم پر ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے ميرے سوال کا جواب دو،کيا تم نے خود اسے قتل کيا ہے يا کسی اور نے اور اب تم اسے ٹھکانے لگانے کے ليے کہاں لے جا رہے ہو ؟۔انہوں نے جواب ديا:ہم نے نہ تو اسے قتل کيا ہے اور نہ ہی يہ مقتول ہے بلکہ ہم مزدور ہيں اوراس کی ماں نے ہميں مزدوری دينی ہے ،وہ اس کی قبر کے پاس ہمارا انتظار کر رہی ہے آؤ تم بھی ہمارے ساتھ آ جاؤ ميں تجسس کی وجہ سے ان کے ساتھ ہوليا ۔ہم قبرستا ن ميں پہنچے تو ديکھا کہ واقعی ايک تازہ کھدی ہوئی قبر کے پاس ايک بوڑھی خاتون کھڑی تھيں ۔ميں ان کے قريب گيا اور پوچھا :اماں جان ! آپ اپنے بيٹے کے جنازے کو دن کے وقت يہاں کيوں نہيں لائیں تاکہ اور لوگ بھی اس کے کفن دفن ميں شريک ہو جاتے؟انہوں نے کہا :يہ جنازہ ميرے لخت جگر کا ہے ،ميرا يہ بيٹا بڑا شرابی اور گناہ گار تھا ،ہر وقت شراب کے نشے اور گناہ کی دلدل ميں غرق رہتا تھا۔جب اس کی موت کا وقت قريب آيا تو اس نے مجھے بلا کر تين چيزوں کی وصيت کی ۔۔۔
(1)جب ميں مر جاؤں تو ميری گردن ميں رسی ڈال کر گھر کے ارد گرد گھسيٹنا اور لوگوں کو کہنا کہ گنہگاروں اور نافرمانوں کی يہی سزا ہوتی ہے ۔
(2)مجھے رات کے وقت دفن کرنا کيونکہ دن کے وقت جو بھی ميرے جنازے کو ديکھے گا مجھے لعن طعن کریگا۔
(3)جب مجھے قبر ميں رکھنے لگو تو ميرے ساتھ اپنا ايک سفيد بال بھی رکھ ديناکيونکہ اللہ عزوجل سفيد بالوں

 

سے حيا فرماتا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ مجھے اس کی وجہ سے عذاب سے بچا لے ۔ جب یہ فوت ہوگیاتو ميں نے اس کی پہلی وصيت کے مطابق جب میں نے اس کے گلے ميں رسی ڈالی اور اسے گھسيٹنے لگی تو ہاتف غيبی سے آواز آئی اے بڑھيا ! اسے يوں مت گھسيٹو،اللہ عزوجل نے اسے اپنے گناہوں پر شرمندگی (یعنی توبہ)کی وجہ سے معاف فرماديا ہے ۔ جب ميں نے اس بوڑھی عورت کی يہ بات سنی تو ميں اس جنازے کے پاس گيا ،اس پر نماز جنازہ پڑھی پھر اسے قبر ميں دفن کر ديا ۔ميں نے اس کی بوڑھی ماں کے سر کا ايک سفيد بال بھی اس کے ساتھ قبر ميں رکھ ديا ۔

اس کام سے فارغ ہو کر جب ہم اس کی قبر کو بند کرنے لگے تو اس کے جسم ميں حرکت پيدا ہوئی اور اس نے اپنا ہاتھ کفن سے باہر نکال کر بلند کيا اور آنکھيں کھول ديں ۔ميں يہ ديکھ کر گھبرا گيا ليکن اس نے ہميں مخاطب کر کے مسکراتے ہوئے کہا :اے شيخ!ہمارا رب عزوجل بڑا غفور و رحيم ہے،وہ احسان کرنے والوں کو بھی بخش ديتا ہے اور گنہگاروں کو بھی معاف فرماديتا ہے ۔یہ کہہ کر اس نے ہميشہ کے ليے آنکھيں بند کر ليں ۔ہم سب نے مل کر اس کی قبر کو بند کر ديا اور اس پر مٹی درست کر کے واپس آ گئے ۔(حکايات الصالحين ص78)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…