ہمارے اکابرین علم کے ساتھ ساتھ ادب کا بھی خوب اہتمام فرمایا کرتے تھے‘ حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ میں نے ہمیشہ چار باتوں کی پابندی کی۔ ایک تو یہ کہ میری لاٹھی کا جو سر زمین پرلگتا تھا اس کو بھی کعبے کی طرف کر کے نہیں رکھا‘ میں نے بیت اللہ شریف کا اتنا احترام کیا۔دوسری بات یہ کہ میں اپنے رزق کااتنا احترام کرتا تھا کہ چارپائی پر
بیٹھتا تو خود ہمیشہ پائنتی کی طرف بیٹھتا اور کھانے کو سرہانے کی طرف رکھتا اس طرح بیٹھ کر کھانا کھاتا تھا‘تیسری بات یہ جس ہاتھ سے طہارت کرتا تھا میں اس ہاتھ میں پیسے نہیں پکڑتا تھا کیونکہ یہ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے۔ چوتھی بات یہ کہ جہاں میری کتابیں پڑی ہوتی ہیں میں اپنے استعمال شدہ کپڑوں کو ان دینی کتابوں کے اوپر کبھی نہیں لٹکایا کرتا تھا۔



















































