بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

دو منٹ میں

datetime 2  جنوری‬‮  2019 |

آریانا فلاسی دنیا کی مشہور صحافی تھی‘ انہوں نے تیس‘ چالیس برس قبل دنیا کے بڑے لیڈرز کے انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا‘ یہ انٹرویوز بعدازاں ’’انٹرویو ود ہسٹری‘‘ جیسی معرکۃ الآراء کتاب کی شکل میں شائع ہوئے‘ آریانا فلاسی نے لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی سے بھی وقت لیا‘ کرنل قذافی نے اپنا جہاز بھجوا کر آریانا فلاسی کو طرابلس بلوا لیا‘ آریانا فلاسی کو صدارتی محل لے جایا گیا اور انہیں قذافی کے وسیع و عریض ڈرائنگ روم میں بیٹھا دیا گیا۔

آریانا وہاں بیٹھ کر صدر کا انتظار کرنے لگیں‘تھوڑی دیر بعد انہیں محل کے اطالوی ماربل کے فرش پر گھوڑے دوڑنے کی آواز آئی‘ یہ اس آواز پر حیران رہ گئی‘ چند لمحے بعد ڈرائنگ روم کا دروازہ کھلا‘ ڈرائنگ روم میں ایک شاندار عربی گھوڑا داخل ہوا‘ گھوڑا چلتا ہوا آریانا فلاسی کے صوفے کے قریب پہنچا اور فلاسی یہ دیکھ کر حیران رہ گئی اس گھوڑے پر معمر قذافی پوری فوجی یونیفارم میں ہاتھ میں ننگی تلوار لے کر بیٹھا تھا۔ قذافی نے گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے سر سے ہیٹ اتارا‘ تلوار لہرائی اور بارعب آواز میں آریانا فلاسی سے مخاطب ہوا ’’میرا انٹرویو شروع کرو‘‘۔یہ ایک ایسی مضحکہ خیز صورتحال تھی جس نے آریانا فلاسی کو پریشان کر دیا۔ آپ ذرا تصور کیجئے‘ آپ ڈرائنگ روم میں صوفے پر بیٹھے ہیں‘ آپ سے دو فٹ کے فاصلے پر جیتا جاگتا گھوڑا کھڑا ہے‘ گھوڑے پر اس ملک کا حکمران ہاتھ میں ننگی تلوار لے کر بیٹھا ہے اور آپ کو اس حالت میں انٹرویو کا حکم دے رہا ہے۔ آپ اندازا لگائیے آپ کی اس وقت کیا حالت ہوگی۔ آریانا فلاسی صوفے سے اٹھی‘ صدر کو سلام کیا اور چپ چاپ وہاں سے باہر نکل گئی۔ آریانا فلاسی اس گستاخی کے بعد لیبیا سے واپس کیسے آئی‘ یہ ایک الگ داستان ہے۔ کرنل قذافی اس قسم کے کریٹو آئیڈیاز کے ماہر ہیں ‘

آپ ان کا اس نوعیت کا ایک اور شاہکار بھی ملاحظہ کیجئے ‘الجزیرہ ٹیلی ویژن نے چند برس قبل لیبیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر ایک ڈاکو منٹری فلم بنائی‘ یہ فلم عربی زبان میں تھی‘ٹیلی ویژن نے فلم کی جھلکیاں دکھانا شروع کیں تو کرنل قذافی نے کمپنی پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ ان کا حکم تھا الجزیرہ ’’امداد‘‘ لے لے اور یہ فلم نشر نہ کرے لیکن ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے یہ پیش کش ٹھکرا دی۔

کرنل قذافی نے الجزیرہ کے مالک اور قطر کے شہزادے شیخ حمد بن ثامر محمد بن ثانی پر دباؤ ڈالا لیکن اس نے بھی انکار کر دیا یہاں تک کہ فلم نشر ہونے کا وقت آ گیا۔ پورا لیبیا ٹیلی ویژن سیٹوں کے سامنے بیٹھ گیا لیکن جونہی سکرین پر فلم کا ٹائیٹل چلنا شروع ہوا پورے لیبیا کی بجلی بند ہو گئی اور جب تک فلم ختم نہیں ہوئیلیبیا میں بلیک آؤٹ رہا۔ جی ہاں کرنل صاحب نے اپنے عوام کو فلم سے محروم رکھنے کیلئے پورے لیبیا کی بجلی بند کر دی تھی

اور یوں گھنٹہ بھر لیبیا کی سماجی‘ صنعتی اور طبی زندگی منجمد رہی۔ کرنل قذافی سماجی احساس برتری کا بھی شکار ہے‘ یہ خیمے کو عربی سماج کا اعزاز سمجھتا ہے چنانچہ یہ جب بھی کسی دوسرے ملک میں دورے پر جاتا ہے تو اس کا فائیو سٹار خیمہ بھی ساتھ جاتا ہے اور یہ سٹیٹ گیسٹ ہاؤس یا فائیو سٹاد ہوٹل کے لان میں اپنا خیمہ ایستادہ کرواتا ہے اور اس خیمے میں اقامت پذیر ہو جاتا ہے۔

کرنل صاحب کی تشریف آوری سے پہلے اس ملک میں موجود لیبیا کی ایمبیسی اس کے عزیز ترین اونٹ بھی وہاں منگوا لیتی ہے اور یہ اونٹ کرنل صاحب کے دورے کے اختتام تک خیمے کے سامنے لیٹ کر جگالی کرتے رہتے ہیں۔ میں نے چند ماہ قبل کسی اخبار میں پڑھا تھا کرنل صاحب یو این سے خطاب کیلئے نیویارک جا رہے تھے لیکن نیویارک کی انتظامیہ نے ان کے خیمے اور اونٹوں کی ذمہ داری سنبھالنے سے انکار کر دیا

اور یوں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں تناؤ آ گیا۔کرنل صاحب عالمی سطح پر پھڈے بازی کے بھی ماہر ہیں‘ 21دسمبر 1988ء میں لیبین ائر لائنز کی سیکورٹی کے سربراہ اور انٹیلی جنس آفیسر عبدالباسط المغرابی نے لاکروبی کے مقام پر امریکن ائر ویز کی فلائٹ ’’پین ایم۔ 103 کو بم سے اڑا دیا تھا جس میں 270 بے گناہ لوگ مارے گئے‘ اس حادثے کے بعد برطانیہ‘ امریکا اور لیبیا کے درمیان سفارتی جنگ شروع ہو گئی۔

اس جنگ کے نتیجے میں لیبیا پر پابندیاں لگ گئیں جس کے بعد لیبیا جانے والی تمام فلائٹس بند ہو گئیں‘ غیر ملکی کمپنیاں‘یورپی سفیر اور ڈونر ایجنسیاں لیبیا سے واپس آ گئیں یوں لیبیا سفارتی تنہائی کا شکار ہو گیا اور لیبیا سے باہر نکلنے اور اندر داخل ہونے والے لوگ مالٹا کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ لوگ بحری جہازوں کے ذریعے مالٹا آتے اور مالٹا سے جہاز لے کر اس قید خانے سے باہر نکلتے۔

یہ کشمکش 1999ء تک جاری رہی یہاں تک کہ معمر قذافی نے یورپ کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے۔ لیبیا نے مجرم عبدالباسط کوہینڈ اوورکر دیا‘ اسے عمر قید کی سزا ہوئی اور مقتولوں کے لواحقین کو مجموعی طور پر دس بلین ڈالر بھی ادا کئے۔اسی قسم کا پھڈا معمر قذافی نے 1984ء میں برطانیہ میں کیا۔ لندن کی جیمز سکوائر میں لیبیا کے سفارتخانے کے سامنے برطانیہ میں مقیم لیبیائی باشندے احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے‘

لیبیا کے سفیر نے لندن پولیس کو یہ مظاہرے رکوانے کا ’’حکم‘‘ دیا‘ پولیس نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا جس پر کرنل قذافی نے مظاہرین کو گولی مارنے کا حکم دے دیا۔ اس حکم کے بعد لیبیا کے سفارتخانے کے اندر سے فائرنگ کر دی گئی ‘اس فائرنگ کی زد میں لندن کی پولیس کی ایک لیڈی سارجنٹ یونے فلیچر آ گئی۔ برطانوی پولیس نے اس واقعے کے بعد لیبیا کے سفارتخانے کا محاصرہ کر لیا‘ پندرہ دن تک سفارتی عملے کا پانی اور خوراک بند رہی‘

اس کے بعد پورے سفارتخانے نے سرینڈر کیا‘ برطانیہ نے تمام عملے کو ملک بدر کر دیااور یوں لیبیا اور برطانیہ کے سفارتی تعلقات پندرہ سال تک منقطع رہے یہاں تک کہ 2009ء میں لیبیا کی حکومت نے مرحومہ یونے فلیچر کے لواحقین کو رقم دی اور ساتھ ہی برطانیہ سے معافی بھی مانگی۔یہ ہیں کرنل قذافی اور ان کے کریٹو آئیڈیاز لیکن اب سوال پیدا ہوتا ہے یہ کرنل قذافی اس قدر بے وقوفی اور حماقت کے باوجود 41 سال سے لیبیا کا حکمران کیوں چلا آ رہا ہے۔

اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک‘ لیبیا تیل کی دولت سے مالا مال ہے‘ کرنل قذافی نے کھلے دل سے تیل کی دولت عوامی بہبود پر خرچ کی‘ انہوں نے پورے لیبیا میں سہولتوں کا جال بچھا دیا‘ چھوٹے سے چھوٹا گاؤں بھی دو رویہ سڑک کے ساتھ منسلک ہے اور ملک کے ہر شہری کو تعلیم‘ صحت اور خوراک کی سہولت حاصل ہے اور دو‘عوام خوشحال ہیں‘ کرنل قذافی نے 40سال تک ضروریات زندگی کی قیمتوں اور شہریوں کے کم ترین گزارے میں توازن رکھا‘

یہ توازن عالمی پابندیوں کے دوران بھی قائم رہا‘ جب دنیا بھر کی فلائٹس اوربحری جہاز بند تھے اس دور میں بھی کرنل قذافی نے ملک میں مہنگائی نہیں ہونے دی چنانچہ لوگ خوشحال اور خوش رہے اور اس خوشی اور خوشحالی کی وجہ سے کرنل صاحب کی حکومت چلتی رہی لیکن آج یہ معمر قذافی اپنے ہم وطنوں کے ہاتھوں ذلیل ہو رہے ہیں۔ لیبیا میں ہنگامے جاری ہیں‘

آٹھ شہر حکومت کے اختیار سے نکل چکے ہیں‘ سات سو کے قریب لوگ مر چکے ہیں‘ فوج نے اپنے ہی لیڈر کے خلاف بغاوت کر دی ہے‘ پولیس حکم ماننے سے انکار کر رہی ہے‘ دنیا بھر میں موجود لیبیا کے سفیر معمر قذافی کا ساتھ چھوڑ کر باغیوں کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔ کرنل صاحب افریقہ کے جنگلوں میں چھپی کرائے کی اس فوج کو بھی طرابلس اور بن غازی لے آئے ہیں جس کی یہ بیس سال سے پرورش کر رہے ہیں‘

ان کے حامی فوجی اور ائر فورس کے افسر عوام پر بم اور راکٹ برسا کر بھی دیکھ چکے ہیں۔کرنل صاحب نے قوم سے خطاب کر کے بھی دیکھ لیا لیکن عوام نہیں مان رہے اور یوں محسوس ہوتا ہے آئندہ چند دنوں میں معمر قذافی بھی مصر کے حسنی مبارک اور تیونس کے زین العابدین بن علی کی طرح عبرت کے قبرستان میں دفن ہو جائیں گے۔ لیبیا کی یہ صورتحال دنیا کے ہر اس حکمران کیلئے الارم کی حیثیت رکھتی ہے

جو اپنے اقتدار‘ اپنی طاقت اور اپنی چالاکی پر فخر کرتا ہے ۔ یہ صورتحال چیخ چیخ کر اعلان کر رہی ہے اگر عوام بپھر جائیں تو بن علی ہو‘ حسنی مبارک ہو یا پھر معمر قذافی جیسا ظالم شخص ہو ان لوگوں کو دنیا میں چھپنے کی جگہ نہیں ملتی اوران کی طاقت ان کا المیہ بن جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…