بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

اولاد

datetime 1  جنوری‬‮  2019 |

ایک بوڑھا آدمی اپنے بیٹے کے ساتھ رہنے کے لیے گیا۔ کوئی تیسرا دن تھا کہ اس کے بیٹے اور بہو نے نوٹ کیا کہ وہ کھاتے وقت ہاتھوں کی کپکپی کی وجہ سے جگہ جگہ کھانا گرا دیتا تھا اور ایک دن تو اس نے حد کردی کہ اس سے اچانک تھوڑی سی چائے بھی ڈائننگ ٹیبل پر ڈل گئی۔ سارا دستر خوان بیڑہ غرق ہو گیا۔ چائے کی پیالی نیچے فرش پر گر کر کرچی کرچی ہو گئی۔ بوڑھے کو بہت شرمندگی ہو ئی۔ اس کے بیٹے اور بہو نے سوچا کہ ایسے تو روز روز گند مچے گا

کیوں نہ ابا جی کی ایک سادی سی لکڑی کی میز ایک کونے میں علیحدہ لگا لیں۔ ان کے لیے برتن بھی علیحدہ کردیے۔لکڑی کے پیالے اور لکڑی کی پلیٹ چمچ علیحدہ کرکے ابا جی کو ان میں کھانا پینا دینے لگے۔ ایک دن میاں بیوی اپنے بیٹے کے ساتھ بیٹھے تھے۔ بیوی ٹی وی دیکھ رہی تھی اور شوہر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا کہ اس کی نظر اپنے چار سالہ بیٹے پر پڑی۔۔اس نے بیٹے سے پوچھا کہ کیا کر رہے ہو۔ بچے نے ہاتھ میں لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جمع کر رکھے تھے۔۔ ہاتھ کھول کے اپنے باپ کو دکھائے اور بولا کہ آپ اور امی جب بوڑھے ہو جا ئیں گے تو میرے پاس رہیں گے نا۔ اس وقت کے لیے آپ دونوں کے لیے لکڑی کے برتن بنا رہا ہوں کیوں کہ آپ دونوں علیحدہ ٹیبل پر اکیلے کھایا کریں گے نا۔بچے کی بات سن کر خاوند دم بخود رہ گیا اور بیوی کی طرف دیکھا جو ٹیوی چھوڑ چھاڑ کے بچے کی بات پر رنجیدہ تھی۔ اگلے دن سے دونوں میاں بیوی نے کونے والا ٹیبل باہر پھینک دیا اور بچے کے داداجان بھی باقی سب کے ساتھ کھانا کھانے لگے۔ آج بھی بڑھاپے کی وجہ سے ان سے کبھی چائے گرتی ہے تو کبھی سالن مگر اب ان کا بیٹا اور بہو کوئی شکایت نہیں کرتے۔ انسان جو کچھ بھی اپنی اولاد کو سکھاتا ہے اپنے اعمال کی پاداش اور اپنی تربیت سے سکھاتا ہے۔ جو بھی آج ہم بوئیں گے وہی کل ہم نے کاٹنا ہے تو اپنی رویے کو سب کے ساتھ بہتر بنائیں تاکہ آپ اپنی اولاد کیبہترین پرورش کر سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…