منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

رزق خود چل کر آتا ہے

datetime 16  اکتوبر‬‮  2017 |

کسی گاؤں میں ایک نو جوان رہتا تھا۔ پڑھائی لکھائی جب ختم ہوئی تو والدین نے نوکری کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ کئی مہینے وہ نوکری کی تلاش میں پھرتا رہا لیکن کہیں نوکری نہ ملی۔ایک دن تھک ہار کر خود سے بولا، رزق تو اللہ کی ذات نے دینا ہے۔ اب میں نوکری کی تلاش میں نہیں پھروں گا بلکہ سکون سے زندگی گزاروں گا۔ اللہ رازق ہے تو گھر بیٹھے ہی رزق دے گا۔اسی سوچ کے ساتھ یہ جوان صبح کی سیر کے لئے نکلا

،سیر کے بعد گاؤں کے قریب سے گزرنے والی نہر کے کنارے جا کر بیٹھ گیا۔ابھی بیٹھے پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے کہ دیکھا ایک پتہ نہر میں نیچے کی طرف بہتا ہوا آ رہا ہے۔ چھلانگ لگا کر پتہ پکڑا تو یہ کیا دیکھتا ہے کہ پتے پر دو نان اور ان پر حلوہ پڑا تھا۔واہ خدایا! واقعی رزق تو کھانے والے تک خود پہنچتا ہے۔ حلوہ کھایا بہت لذیذ تھا، پیٹ بھر کر واپس گھر آ گیا،ظہر کے بعد پھر نہر کنارے چلا گیا۔ ایک بار پھر حلوہ اور نان پتے پر آتے نظر آئے، اٹھائے اور کھا لئے۔مغرب کی نماز کے بعد پھر نہر کنارے چلا گیا۔ اس بار بھی وہی ہوا۔واہ! رات کے کھانے کا انتظام بھی ہو گیا۔اب روزانہ فجر، ظہر اور مغرب کی نماز کے بعد نہر کنارے جا کر بیٹھ جاتا اور بلا ناغہ نان اور حلوہ مل جاتے۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔ایک دن خیال آیا کہ دیکھوں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح یہ نان اور حلوہ بھجواتا ہے. اسی سوچ میں صبح کی نماز کے بعد نہر کی اوپری طرف چل پڑا۔ کچھ کلومیٹر ہی گیا ہو گا کہ دیکھا، ایک بابا جی ہیں جو نان اور حلوہ لئے نہر کنارے بیٹھے ہیں۔قریب جا کر دیکھا۔۔ تو بابا جی نان کے اندر حلوہ رکھتے اور پھر اس گرم گرم حلوے سے اپنی ٹانگ پر نکلے ایک پھوڑے کو ٹکور کرتے، پھر ایک پتے پر نان اور حلوہ رکھ کر نہر میں بہا دیتے۔جوان کا دل ایک دم خراب ہونا شروع ہو گیا۔ ابکائیاں آنے لگیں کیا میں اتنے دنوں سے یہ حلوہ اور نان کھا رہا تھا؟بابا جی سے پوچھا یہ ماجرا کیا ہے؟بابا جی بولے:کئی دنوں سے یہ پھوڑا نکلا ہوا تھا۔

جس کی وجہ سے بہت تکلیف تھی۔ حکیم کے پاس گیا تو حکیم نے مشورہ دیا کہ روزانہ دن میں تیں بار سوجی کے حلوے کو نان پر رکھ کر اس کی ٹکور کروں، سو میں فجر، ظہر اور مغرب کے بعد ادھر آ جاتا ہوں۔ نان اور حلوے کی ٹکور کے بعد نان اور حلوے کو پتے پر رکھ کر نہر میں بہا دیتا ہوں تاکہ خراب ہونے کی بجائے چرند پرند اور مچھلیاں ہی کھا لیں۔بے شک اللہ رازق ہے۔ رزق اللہ نے ہی دینا ہے، محنت اور کاہلی کے درمیان پھل کا فرق ہے۔جو محنت کرتے ہیں انھیں پاک اور صاف رزق ملتا ہے۔ جو کاہلی میں وقت گزارتے ہیں اور حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں، رزق تو انہیں بھی ملتا ہے مگر وہ رزق جس میں کراہت اور گندگی ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…