منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

کرنل سینڈرز کی کہانی

datetime 20  جولائی  2017 |

کرنل سینڈرز پینسٹھ برس کا تھا جب اس کو اپنا سیکیورٹی چیک ملا۔ اس کو چیک کے زریعے صرف ننانوے ڈالر ماہانہ سیکیورٹی ملتی تھی۔ اس کا چھوٹا سا گھر تھا اور ایک بہت پرانی گاڑی جو بمشکل چلتی تھی۔ سینڈرز نے فیصلہ کیا کہ حالات بدلنے کا وقت آگیا ہے۔ اس نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا کہ اس کا کونسا کام ایسا ہے جو اس کی سب سے بڑی خوبی ہے اور اس کےمستقبل کے لیے منافع بخش ثابت ہو سکتا ہے۔

اس کے دوست اس کے فرائیڈ چکن کی ہمیشہ بہت تعریف کرتے تھے۔ اس نے اپنی ترکیب ایک کاغذ پر تحریر کی اور کینٹکی سے باہر کا رخ کیا۔ اب وہ مختلف سٹیٹس میں گھوما اور بہت سے ریسٹورنٹس میں جا جا کر ان کو آفر پیش کرتا۔ وہ کہتا تھا کہ میری ترکیب لے کر اپنے ریسٹورنٹ میں میرا مزیدار فرائیڈ چکن بناؤ اور جتنا بک جائے اس پر ایک مخصوص رقم مختص کر کے وہ مجھے ہر چکن پیس بکنے پر ادا کر دینا۔ باقی منافع ریسٹورنٹ خود رکھ لے گا۔یعنی ہر بکنے والے چکن پیس پر اس نے کسی فیصد منافع اپنے لیے مختص کرنے کی آفر کی۔ اس کو پورا یقین تھا کہ اگر کوئی بھی ریسٹورنٹ اس کا فرائیڈ چکن رکھے گا تو وہ ضرور بکے گا۔ وہ در حقیقت ایک ہزار ہوٹلوں میں دھکے کھا کر ان سے نفی میں جواب لیتا رہا۔ جب اس نے ایک ہزار نو ریسٹورنٹ سے ’نو‘ سن لیا تو بھی وہ اپنے سفر پر نکلا رہا اور کوشش جاری رکھی۔ اگلا رویسٹورنٹ اس کی آفر مان گیا اور اس کی ترکیب پر فرائیڈ چکن بنانے لگا۔وہ ریسٹورنٹ اتنا چلا کہ کرنل سینڈرز کی ترکیب مشہور ہو گئی۔ آج کرنل سینڈرز کا کینٹکی فرائیڈ چکن دنیا کی سب سے بڑی فرینچائیزز میں سے ایک ہے۔ کے ایف سی کو مک ڈانلڈ، سٹار بکس اور ڈنکن ڈونٹس جیسی شہرت حاصل ہے ۔

اس کو اتنی عمر میں خیال آیا کہ کامیابی حاصل کرنی ہے اور اس نے اپنی خود اعتمادی اور پر امیدی سے بین الاقوامی شہرت اور کامیابی کو اپنا مقدر بنا لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…