جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

اس کی زندگی کا صرف ایک سال باقی تھا

datetime 14  جولائی  2017 |

انتھونی برگس چالیس برس کا تھا جب اس کو کینسر تشخیص ہوا۔ اس کے دماغ میں ایک رسولی تھی اور ڈاکٹروں کے مطابق اس کے پاس صرف ایک سال باقی تھا۔ اس نے کوئی پلاننگ نہیں کی تھی۔ جس وقت اس کو یہ خبر ملی اس وقت اس کا دیوالیہ نکل چکا تھا۔ وہ ایک رائٹر تھا لیکن اس کی کوئی کتاب بیسٹ سیلر نہیں بنی تھی۔ اس کو رہ رہ کر اپنی بیوی کا خیال آتا تھا کہ میری موت کے بعد اس کا کیا بنے گا۔

ایک دن وہ بیٹھا اور اس نے ایک نشست میں ایک ایسا ناول تحریر کیا جو دنیا بھر میں مقبول ہو گیا۔ اس نے ہمت نہیں ہاری اور سوچا کی جانے سے پہلے اپنی بیوی کے لیے اتنا سامان کر کے جائے گا کہ وہ پر سکون زندگی بسر کر سکے۔اس کی نیت میں اتنا خلوص تھا کہ اس نے اس سال میں چار سے پانچ ناول تحریر کیے اور سب کے سب ایک سے بڑھ کر ایک بزنس کرتے رہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ خدا کو شاید اس کا جذبہ اتنا پسند آیا کہ وہ اس سے اگلے سال بھی چھ ماہ تک بالکل ٹھیک ٹھاک رہا۔جب تجسس نے اسے ستایا تو اس نے دوبارہ ہسپتال کا رخ کیا۔ ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کیے تو اس کے دماغ کی رسولی ختم ہو چکی تھی اور وہ بالکل بخیریت تھا۔ اس کو معجزہ سمجھیں یا کچھ اور مگر وہ ایک بہت اچھا اور مقبول رائٹر بن گیا۔ انتھونی نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔اس نے اپنی بقیہ طویل عمر میں ستر کے قریب ناول لکھے اور اپنی بیوی کے ساتھ پرسکون اور خوشحال زندگی بسر کرتا رہا۔ اگر میں اور آپ بھی ہر دن اس طرح گزاریں کہ دوسروں کی خاطر جئیں اور ان کی فکر کریں تو شاید ہماریزندگی بھی یکدم بدل جائے گی۔ اگر ہر شخص اپنا ہر دن ایسے گزارے جیسے اس کے آخری سال کا ایک اور دن بیت گیا تو شاید ہم ہر ایک کے ساتھ خوش خلقی روا رکھیں

اور صرف اپنی یہ دنیا ہی نہیں بلکہ اپنی آخرت کا سامان کر لیں۔ جب آپ کسی شے کے پیچھے پڑ جاؤ اور دباؤ محسوس کر کے محنت کرو تو آپ اس کو پانے کو کافی حد تک یقینی بنا لیتے ہو۔ ہر دن ایسے گزاریں جیسے آپ کے آخری سال کا دن ہو۔ اس سے آپ کا کام اور آپ کے رشستے ناتے دونوں میں بہت اصلاح ہو سکتی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…