پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

’’سلطان کا انصاف‘‘

datetime 15  جون‬‮  2017 |

سن 800 ہجری کے آغاز پر والی گجرات سلطان احمد شاہ کی مسند نشینی کے آٹھ سال پورے ہو رہے تھے۔ درباریوں نے سلطان کو جشن منانے کا مشورہ دیا۔ سلطان احمد شاہ نہایت رحم دل، سخی اور عادل بادشاہ تھا۔ اس کا عدل مثالی تھا، رعایا اسی لیے ہر لمحے اپنے بادشاہ کی لمبی عمر کی دعائیں مانگتی تھی۔ وہ لہو ولعب اورعیاشیوں سے بھی کوسوں دور تھا۔رعایا پر جی کھول

کر خرچ کرتا تھا، لیکن امرا و رؤسا اور درباریوں کی عیش پرستی کے خلاف تھا، بلاضرورت وہ کوئی جشن منعقد نہیں کرواتا تھا۔ لیکن رعایا اور درباریوں کے اصرار پر اس نے محدود پیمانے پر جشن کی اجازت دی۔ شہر میں چراغاں کیا گیا، غریبوں کو خیرات دی گئی اور انھیں خوشی میں شریک کیا گیا۔ بادشاہ کا داماد ایک نہایت وجیہہ آدمی تھا اور دربارکا رکن بھی تھا۔ جشن کے دوران کسی بات پہ ناراض ہوکر ایک غریب مزدور کو قتل کردیا۔ یہ خبر جب سلطان تک پہنچی تو وہ سخت برہم ہوا اور کہا ’’قانون شریعت میں امیر اور غریب کا امتیاز نہیں ہوتا۔ میرا داماد ہونا اسے سزا سے نہیں بچا سکتا۔ اس کو گرفتار کرکے جلد ازجلد عدالت کے سپرد کرو۔‘‘ مقدمہ عدالت میں چلا اور ثابت ہوگیا کہ سلطان کا داماد قاتل ہے۔لیکن قاضی نے مقتول کے وارثوں کو بلا کر خوں بہا پہ راضی کرلیا، کہ اب مزدور واپس تو نہیں آسکتا اور پھر وہ سلطان کا داماد ہے۔ سزا ہونے سے شہزادی بیوہ ہوجائے گی، لیکن تمہارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ عقل مندی سے کام لو اور اسے معاف کرکے خوں بہا کی رقم لے لو۔‘‘ لہٰذا بائیس اشرفیوں کے عیوض وارثوں نے راضی نامے پہ دستخط کردیے۔ جب کاغذات تیار ہوگئے تو آخری فیصلے کے لیے کاغذات سلطان احمد شاہ کے سامنے پیش کیے گئے جن میں قاضی صاحب نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ انھوں نے گواہوں

کے اور عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں تصدیق کی کہ ملزم واقعی قتل عمد کا مرتکب ہوا ہے۔ لیکن مقتول کے ورثا برضا و رغبت خوں بہا لینے پہ راضی ہیں۔لہٰذا میں نے ان کی مرضی و منشا سے اشرفیاں خوں بہا کی تجویز کی ہیں۔ حکم آخر کے لیے کاغذات حضورکے دستخط کے لیے موجود ہیں۔‘‘سلطان نے جب روئیداد پڑھی تو فرمایا ’’یہ درست ہے کہ ورثا خوں بہا کی

رقم لینے پر راضی ہوگئے ہیں لیکن یہ فیصلہ بہت کمزور ہے۔ مجھے کامل یقین ہے کہ خوں بہا کی شرط اس لیے قبول کی گئی کہ قاتل میرا داماد ہے۔ وارثوں نے یہ سوچ کر خوں بہا لینے پہ آمادگی ظاہر کی ہوگی کہ اس فیصلے سے بادشاہ ممنون ہوگا اور انھیں مزید مراعات بھی مل سکتی ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے دور فیصلے سے شاہی خاندان کے افراد کو کھلی چھوٹ مل جائے گی،

کہ جس پر چاہیں عرصۂ حیات تنگ کردیں، جسے چاہیں مار دیں اور پھر غریب و نادار لوگوں کو خوں بہا کی رقم دے کر صاف بچ جائیں۔میں مکمل طور پر اس فیصلے کے خلاف ہوں، گوکہ اس سے میری بیٹی کو صدمہ پہنچے گا اور اسے بیوگی کا داغ سہنا پڑے گا۔ لیکن خاندان اور اولاد کی خوشی کی خاطر غریب رعایا کی جان اس طرح ارزاں کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ میرے داماد نے

جو اس طرح بے باکانہ ایک غریب نوجوان کا خون کردیا، اس میں ضرور یہ گھمنڈ شامل ہوگا کہ وہ سلطان کا چہیتا داماد ہے اس لیے اسے بچانے کے لیے عدالت اور قاضی بھی سرگرم ہوں گے، تاکہ بادشاہ کو خوش کرکے اپنے درجات بھی بلند کیے جائیں۔ لہٰذا میں کسی طرح اس فیصلے کی توثیق نہیں کرسکتا۔ کیونکہ اگر اس خوں بہا کے فیصلے پہ عمل ہوگیا اور 22 اشرفیوں کے

عوض میرے داماد کی جان بخش دی گئی تو اس فیصلے سے دولت مندوں کو بڑی ڈھیل ملے گی۔ کیونکہ شاہی خاندان کے لیے بائیس اشرفیاں کوئی معنی نہیں رکھتیں، لیکن میری نظر میں انسانی جان کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے، لہٰذا میں اس فیصلے کی توثیق نہیں کرتا، اسے منسوخ کرتا ہوں اور حکم دیتا ہوں کہ قاتل کو دار پر چڑھایا جائے۔اور یہ بھی حکم دیتا ہوں کہ پھانسی کے

بعد عبرت کے لیے قاتل کی لاش کو چوبیس گھنٹوں تک شہرکے وسط میں لٹکایا جائے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو، تاکہ پھر کسی دولت مند کو کسی غریب کا خون بہانے کی جرأت نہ ہو۔‘‘ اس فیصلے کے بعد ہر طرح سے سلطان سے سفارش کی گئی کہ وہ اپنے چہیتے داماد کی جاں بخشی فرمائیں۔ لیکن عادل سلطان نے جواب دیا کہ ’’یہیں تو میری نیت کا حساب ہے۔میں یہ داغ لے کر قبر میں نہیں جانا چاہتا کہ میرے دور میں رعایا کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…