پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

سارے جہاں کا درد اِک میرے جگر میں ہے!

datetime 12  جون‬‮  2017 |

حضرت عمرؒ کے زمانے میں ایک مرتبہ زبردست قحط پڑا تو عرب کے کچھ لوگ ایک وفد کی شکل میں آپ کے پاس آئے۔ انہوں نے آپ سے گفتگو کرنے کے لیے ایک شخص منتخب کیا۔ اس نے آپ سے کہا: ’’اے امیرالمومنین! ہم ایک شدید ضرورت کی وجہ سے آپ کے پاس حاضر ہوئے ہیں۔ ہمارے جسم کی چمڑی سوکھ گئی ہے، کیونکہ اب ہڈیاں بھی میسر نہیں آتیں اور ہماری مشکل کا حل صرف بیت المال کے ذریعہ ممکن ہے۔

اس مال کی حیثیت تین میں سے ایک ہو سکتی ہے یا تو خدا کے لیے ہے یا بندوں کے لیے یا پھر آپ کے لیے۔ خدا کو اس کی ضرورت نہیں۔ اگر بندگان خدا کے لیے ہے تو اسے انہیں دے دیجئے۔ اگر آپکا ہے تو صدقہ کے طور پر ہمیں دے دیجئے۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزائے خیر دے گا۔‘‘ یہ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی چنانچہ آپؒ نے حکم دیا کہ ان لوگوں کی تمام ضروریات بیت المال سے پوری کی جائیں۔
ایک فقیر کا حال دریافت کرنا
حضرت عمرؒ کو اس بات کی بہت فکر لاحق رہتی تھی کہ رعایا فقر و فاقہ سے نجات پا جائے۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک شخص مدینہ طیبہ سے آپ کے پاس آیا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ فلاں مقام پر جو فقیر بیٹھا کرتے تھے ان کا کیا حال ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ لوگ اب وہاں نہیں بیٹھتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو وہاں بیٹھنے سے بے نیاز کر دیا ہے۔
قومی خزانے کی فکر
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے نزدیک بیت المال میں صرف اس کے حق دار کا حصہ تھا‘

یہاں تک کہ خود امیرالمومنین کا بھی اس میں کوئی حصہ نہ تھا۔ چنانچہ حضرت وہب بن منبہؒ جو کہ ایک متقی پرہیزگار اور اللہ والے بزرگ تھے۔ آپ نے بیت المال کے سلسلہ میں ان کے ساتھ بھی وہ برتاؤ کیا جو ایک خلیفہ راشد کو کرنا چاہیے تھا۔ ماجرا یہ ہوا کہ حضرت وہبؒ بیت المال کے منتظم تھے اور بیت المال کی کچھ رقم کم ہو گئی۔ آپ نے حضرت عمرؒ کو لکھا کہ بیت المال میں چند دینار کم ہیں، حضرت عمرؒ نے ان کو جواب میں لکھا: ’’میں آپ کو الزام نہیں دیتا۔ مجھ سے اس مال کے بارے میں مسلمان جھگڑا کرنے والے ہیں، جتنے دینار کم ہیں براہ نوازش اتنے بیت المال میں جمع کر دیں۔‘‘ چنانچہ حضرت وہب بن منبہؒ نے اتنے دینار اپنی جیب سے اس میں جمع کر دیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…