پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

حضرت عمرؒ کا دو خارجیوں سے دلچسپ مکالمہ

datetime 12  جون‬‮  2017 |

دو خارجی حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے پاس آئے ان دونوں نے ان الفاظ میں آپؒ کو سلام کیا: ’’السلام علیک یا انسان‘‘۔ اے انسان! تجھ پر سلامتی ہو۔ حضرت عمرؒ نے جواب دیا: ’’وعلیکما السلام یا انسانان‘‘ اے دو انسانوں! تم پر بھی سلامتی ہو۔ خارجی: اللہ کی اطاعت اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس کی اپنائیں۔ حضرت عمرؒ : جو اس بات سے جاہل رہا وہ گمراہ ہو گیا۔

خارجی: تمام اموال و اسباب مالداروں کے پاس جمع نہیں ہوناچاہیے۔ حضرت عمرؒ : بلاشبہ وہ مالدار اور ظالم ان مال و اسباب سے محروم کیے جا چکے ہیں۔ خارجی: اللہ کا مال اس کے حقدار بندوں میں تقسیم کیا جائے۔ حضرت عمرؒ : اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں تمام تر تفصیلات اپنی کتاب میں بیان فرما دی ہیں۔ خارجی: نماز اپنے وقت پر ادا کی جائے۔ حضرت عمرؒ : ایسا کرنا نماز کے حقوق میں سے ہے۔ خارجی: نماز میں صفیں سیدھی رکھی جائیں۔ حضرت عمرؒ : یہ اتمام سنت میں سے ہے۔ خارجی: ہمیں آپکی طرف بھیجا گیا ہے۔ حضرت عمرؒ : تم بات پہنچاؤ، ڈراؤ نہیں۔ خارجی: لوگوں کے درمیان حق اور انصاف سے معاملہ کیجئے۔ حضرت عمرؒ : تم دونوں سے پہلے اللہ تعالیٰ اس کا حکم دے چکے ہیں۔ خارجی: حکم کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ حضرت عمرؒ : اگر تم اس کلمہ کے ساتھ باطل کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو تو یہ کلمہ برحق ہے۔ خارجی: امانتیں امانت داروں کے حوالے کیجئے۔ حضرت عمرؒ : وہی تو میرے مددگار ہیں۔ خارجی: خیانت سے بچو۔ حضرت عمرؒ : خیانت سے تو چور کوبچنا چاہیے۔ خارجی: پھر شراب اور خنزیر کا گوشت۔۔۔! حضرت عمرؒ : اہل شرک اور غیر مسلم اس کے حق دار ہیں۔ خارجی: جو شخص دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا تو وہ امن والا ہو گیا۔ حضرت عمرؒ : اگر اسلام نہ ہوتا تو ہم امن والے نہ ہوتے۔

خارجی: رسول اللہ ؐ کے عہد والے۔ حضرت عمرؒ : ان کے لیے ان کے عہود ہیں۔ خارجی: ان کو ان کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دی جائے۔ حضرت عمرؒ : اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی برداشت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ خارجی: یہود و نصاریٰ کی عبادت گاہوں کو تباہ کر دیجئے۔ حضرت عمرؒ : یہ تو میری رعایا کی ضرورت کی چیزیں ہیں۔ خارجی: ہمیں قرآن مجید سے نصیحت کیجئے۔ حضرت عمرؒ : ’’اس دن سے ڈرو جس دن تمہیں اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا۔‘‘

خارجی: ہمیں ان کی طرف واپس بھیج دیں جنہوں نے ہمیں بھیجا ہے۔ حضرت عمرؒ : میں نے تمہیں روکا ہی کب ہے۔ خارجی: آپ ہمارے بھائیوں کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ حضرت عمرؒ : میں نے انہیں دیکھا ہی نہیں نہ ان کی بات سنی۔ خارجی: ہمیں برید کی سواریوں پر واپس بھیجئے۔ حضرت عمرؒ : یہ نہیں ہو سکتا، وہ اللہ کا مال ہے، جو میں تمہارے لیے جائز نہیں سمجھتا۔ خارجی: ہمارے پاس تو مال و اسباب نہیں ہے۔ حضرت عمرؒ : پھر تو تم دونوں مسافر ہو، لہٰذا تمہارا خرچہ میرے اوپر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…