حضرت سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں سامنے سے مقصورہ والے حضرت خباب رحمتہ اللہ علیہ ظاہر ہوئے اور کہنے لگے اے عبداللہ بن عمر! کیا آپ نے وہ حدیث سنی ہے جو حضرت ابوہریرہؓ بیان کر رہے ہیں؟ وہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو گھرسے ہی جنازے کے ساتھ چلے اور اس کی نماز جنازہ پڑھے اور پھر دفن تک اس کے پیچھے رہے اس کو دو قیراط اجر ملے گا۔
ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے او رنماز جنازہ پڑھ کر واپس آ جائے اس کو احد پہاڑ کے برابر اجر ملے گا یعنی ایک قیراط اجر ملے گا۔ حضرت ابن عمرؓ نے حضرت خبابؓ کو حضرت عائشہؓ کے پاس بھیج دیا کہ ان سے حضرت ابوہریرہؓ کی اس حدیث کے بارے میں پوچھو اور وہ جو جواب دیں وہ آ کر بتاؤ پھر حضرت ابن عمرؓ ایک مٹھی مسجد کی کنکریاں لے کر ہاتھ میں الٹ پلٹ کرتے رہے یہاں تک کہ وہ قاصد یعنی حضرت خبابؒ واپس آ گئے اور آ کر بتایا کہ حضرت عائشہؓ فرما رہی ہیں کہ حضرت ابوہریرہؓ نے ٹھیک کہا ہے تو ہاتھ میں جو کنکریاں تھیں انہیں حضرت ابن عمرؓ نے زمین پر پھینک کر کہا کہ پھر تو ہم نے اجر و ثواب کے بہت سے قیراط کھو دیئے۔ حاکم کی روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا کہ ہمیں نہ تو زمیندارہ کی مشغولی تھی اور نہ بازار کے کاروبار اور تجارت کی۔ جس کی وجہ سے ہمیں حضورﷺ کو چھوڑ کر جانا پڑتا ہو میری چاہت تو بس اتنی تھی کہ حضورﷺ مجھے یا تو کوئی کلمہ اور بات سکھا دیں یا کھانے کا کوئی لقمہ کھلا دیں اس پر حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا اے ابوہریرہ! واقعی تم ہم سب سے زیادہ حضورﷺ کو چمٹے رہتے تھے اسی وجہ سے تم ہم سب سے زیادہ حضورﷺ کی حدیثوں کو جاننے والے ہو۔



















































