سیدنا عمر بن خطابؓ نے ایک خواب دیکھا، خواب دیکھتے ہی آپ بیدار ہوئے تو پوچھا گیا کہ آپ نے کیا خواب دیکھا ہے؟ فرمایا: میری اولاد میں سے ایک شخص ہو گا جس کے چہرے پر زخم کا نشان ہو گا، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، خواب دیکھنے کے بعد آپ فرمایا کرتے تھے، کون ہے جو میری اولاد میں سے ’’اشج‘‘ (زخمی) ہو گا۔
آپؓ کے گھر والوں نے یہ خواب سناتو انہیں خوشی و مسرت ہوئی لیکن اس کی تعبیر سمجھ نہ آئی، مگر وہ تعبیر کا انتظار کرتے رہے۔ سیدنا عمرؓ کے صاحبزادے حضرت عبداللہؓ تو اکثر اپنے والد کا یہ قول دہراتے رہتے تھے کہ’’ کاش مجھے معلوم ہوتا کہ عمرؓ کی اولاد میں وہ کون ہے جس کے چہرے پر زخم کا نشان ہو گا اور وہ میری سیرت اپنائے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔‘‘زمانے کی گردش جاری رہی، انقلاباتِ دہر رونما ہوتے رہے، شب و روز گزرتے گئے، خواب دیکھنے والے حضرت عمر فاروقؓ بھی جامِ شہادت نوش فرما گئے لیکن آپ کی یہ بات زبان بہ زبان نقل ہوتی چلی گئی۔عمر بن عبدالعزیزؒ ابھی بچپن کے سنہری دور میں ہی تھے کہ اپنے والد سے ملنے مصر گئے۔ جب حلوان پہنچے تو اپنی عادت کے مطابق اٹھلا اٹھلا کر چل رہے تھے۔ سیر کرتے کرتے دونوں نے گھوڑوں کے اصطبل تک پہنچ گئے۔ ساتھ ان کے اخیانی بھائی اصبغ بھی سیر کر رہے تھے۔ عمرؒ بے خبر ہو کر گھوڑوں کے پیچھے سے گزر رہے تھے کہ ایک خچر نے آپ کو دولتی مار دی جو آپ کی پیشانی پر پڑی، پیشانی سے خون کا فوارہ نکلا اور ایک گہرا زخم ہو گیا۔ اصبغ نے خون ابلتے دیکھا تو بجائے پریشان ہونے کے بجائے ہنسانے لگے اور بے ساختہ ان کی زبان سے نکلا ’’اللہ اکبر! یہ بنی مروان کا اشج ہے۔ جو حکمران ہوگا‘‘۔ گویا آپؒ کے بھائی نے سیدنا فاروق اعظمؓ کے خواب کی تعبیر بتا دی۔
عمر بن عبدالعزیزؒ کی پیشانی خون سے شرابور تھی۔ زخم کی گہرائی سخت تکلیف دہ تھی۔ اور آپؒ رو رہے تھے لیکن اصبغ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی وہ برابر ہنس رہے تھے اور چیخ چیخ کر یہ کہہ رہے تھے کہ میرا یہ بھائی بنو مروان کا اشج ہے، عمرؒ میں سیدنا فاروق اعظمؓ کی جھلکیاں تو سب گھر والوں کو پہلے ہی نظر آ رہی تھیں لیکن جب آپ زخمی ہو گئے تو اصبغ سے صبر نہ ہو سکا اور وہ ظہور تعبیر کے یقین کی وجہ سے ہنستے ہوئے اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے خواب کی تعبیر کے ظہور کا اعلان کر رہے تھے۔
لیکن عمر بن عبدالعزیزؒ کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ میرا بھائی کیوں خوش ہے اور چیخ چیخ کر اللہ اکبر کے نعرہ کیوں لگا رہا ہے۔ جونہی یہ خبر آپ کی والدہ ام عاصم کو ملی، تو وہ تیزی سے دوڑتی ہوئی آئیں اور اپنے نور نظر کو سینے سے چمٹا لیا، چہرے سے خون کو صاف کیا، بچے کو تسلی دی۔ شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا لیکن پھر جب انہیں پتہ چلا کہ میرے بچے کی چوٹ پر اس کا بڑا بھائی ہنس رہا ہے تو سخت پریشان ہوئیں اور اپنے شوہر عبدالعزیزؒ سے اصبغ کی شکایت کی،
اور خود بھی اصبغ کو ڈانٹا کہ تم میرے لختِ جگر اصطبل کیوں لے گئے اور پھر جب وہ خچر کی دولتی سے زخمی ہوا تو اس پر برابر کیوں ہنس رہے تھے؟ عبدالعزیز بھی بیوی کی شکایت سن کر پہلے تو اپنے لخت جگر عمرؒ کی پیشانی سے خون پونچھنے لگے اورپھر اصبغ پر ناراض ہونے لگے۔ یہ تمہارا چھوٹا بھائی تھا۔ اس کی پیشانی لہولہان ہو گئی اور وہ تکلیف سے رونے لگا اور تم اس کی تکلیف سے خوف ہو کر نعرے لگاتے رہے، اور ہنستے رہے۔ ہنسنے کا یہ کون سا موقع تھا؟
اصبغ نے باپ کی ڈانٹ سن کر یہ کہا: ابا! یہ بات نہیں، مجھے اس وجہ سے ہنسی نہیں آئی کہ میرا بھائی گرا اور اس کی تکلیف سے خوش ہوا، بلکہ میں خوش اس وجہ سے ہوا کہ میں اپنے بھائی میں زخم کے نشان کے علاوہ وہ تمام علامتیں دیکھتا تھا۔ جو خواب میں سیدنا فاروق اعظمؓ نے دیکھی تھیں۔ پھر جب یہ گر کر زخمی ہوگیا تو مجھے اس زخم سے خوشی اور مسرت ہوئی کیونکہ اس میں تمام علامات مکمل ہوگئی تھیں اور اللہ کی قسم! یہ بنو امیہ کے اشج ہیں۔
اصبغ کی یہ بات سن کر عبدالعزیزؒ خاموش ہو گئے اور آپ کے زخم کو دوبارہ نہایت غور سے دیکھنے لگے۔ پھر اپنی بیوی ام عاصم سے کہا: دیکھو تمہارا بیٹا بنو مروان کا اشج ہے اور واقعی اس کی پیشانی سے سعادت جھلکتی ہے۔ اس زخم کی وجہ سے لوگ عمرؒ کو اشج بنی مروان کہنے لگے اور امرائے بنی امیہ عموماً اور عبدالملک کے فرزند خصوصاً اس علامت کی وجہ سے آپ کو حسد کی نگاہ سے دیکھتے۔ لیکن روایات میں ہے کہ عبدالملک بن مروان اپنے اس بھتیجے کو بچپن ہی سے نہایت محبت کی نگاہ سے دیکھتے۔
اپنے قریب بٹھاتے، اور آپ کے سر پر دست شفقت پھیرا کرتے تھے اور جب کبھی کوئی ان کی بات پر اعتراض کرتا تو فرماتے ’’تمہیں کیا پتہ کہ اس بچے کا کیا مقام ہے یہ سریر آرائے خلافت ہو گا۔ کیونکہ یہ اشج بنی مروان ہیں اور سیدنا فاروق اعظمؒ کے خواب کی تعبیر ہے کہ جب زمین ظلم و جور سے بھر جائے گی، تو یہ اسے عدل و انصاف سے بھر لے گا پھر میں اس کو مقرب اور محبوب کیوں نہ بناؤں۔



















































