کراچی (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ق) سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے رکن اور چوہدری شجاعت حسین لورز پاکستان کے بانی و مرکزی صدر محمد صادق شیخ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرط پر پروٹیکٹیڈ بجلی صارفین کے لیے سبسڈی ختم کرنے اور سیپریٹ ریزیڈنشل میٹر اسکیم پر ممکنہ پابندی غریب عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین سے سبسڈی واپس لینا غریب اور متوسط طبقے کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ صادق شیخ کا کہنا تھا کہ ملک میں پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ اور بجلی کے ہوشربا بلوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے، ایسے حالات میں کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر مزید مالی بوجھ ڈالنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ پروٹیکٹیڈ صارفین وہ طبقہ ہے جو محدود آمدن میں اپنے گھریلو اخراجات پورے کرتا ہے اور اگر ان کی سبسڈی ختم کی گئی تو لاکھوں خاندان شدید مالی بحران کا شکار ہوجائیں گے۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ایسے فیصلوں پر نظرثانی کریں کیونکہ عوام پہلے ہی بھاری بھرکم بجلی بل ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ دیہاڑی دار مزدور، کم آمدن والے ملازمین اور سفید پوش طبقہ آخر یہ دوہرا بوجھ کیسے برداشت کرے گا۔
صادق شیخ نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں فکسڈ ٹیکس، سرچارجز، فیول ایڈجسٹمنٹ اور دیگر اضافی ٹیکسوں نے پہلے ہی عوام کی زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی فوری طور پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا جائے، بجلی کے بلوں میں شامل غیر ضروری ٹیکسوں اور سرچارجز کا خاتمہ کیا جائے اور لوڈشیڈنگ کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مہنگائی کے اس طوفان میں عام آدمی کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی قیادت میں عوام کی داد رسی جاری رکھی جائے گی اور ایسے کسی فیصلے کی حمایت نہیں کی جائے گی جس سے غریب اور متوسط طبقے پر اضافی بوجھ پڑے۔ مسلم لیگ (ق) ہر صورت عوامی مفادات کی ترجمانی جاری رکھے گی۔



















































